عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171484

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں وتر کی نماز تنہا پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟

Published on: Jul 7, 2019

جواب # 171484

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1152-980/L=10/1440



وترکی جماعت کاحکم رمضان المبارک کے ساتھ ہے اور رمضان المبارک میں وتر باجماعت ادا کرنا تنہا اداکرنے سے افضل ہے ۔



(وفیہ) أی رمضان (یصلی الوتر وقیامہ بہا) وہل الأفضل فی الوتر الجماعة أم المنزل؟ تصحیحان، لکن نقل شارح الوہبانیة ما یقتضی أن المذہب الثانی، وأقرہ المصنف وغیرہ.(الدرالمختار) وفی رد المحتار: (قولہ تصحیحان) رجح الکمال الجماعة بأنہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کان أوتر بہم ثم بین العذر فی تأخرہ مثل ما صنع فی التراویح فالوتر کالتراویح؛ فکما أن الجماعة فیہا سنة فکذلک الوتر بحر. وفی شرح المنیة: والصحیح أن الجماعة فیہا أفضل إلا أن سنیتہا لیست کسنیة جماعة التراویح. اہ. قال الخیر الرملی: وہذا الذی علیہ عامة الناس الیوم اہ وقواہ المحشی أیضا بأنہ مقتضی ما مر من أن کل ما شرع بجماعة فالمسجد أفضل فیہ.( رد المحتار 2/ ۵۰۲،۵۰۱،ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات