عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171398

کیا فرماتے ہیں علماء مسئلہ ذیل کے بارے میں۔ وتر کی تیسری رکعت میں اگر ہم بھولے سے قنوت کی تکبیر کہ کر رکوع میں چلے جایں
(۱) اور مقتدی پیچھے کھڑے ہیں جو کی دوبارہ اٹھنے کے لے تکبیر کہ رہے ہیں لیکن امام نہیں اٹھا بعد میں سجدہ سہو کرکے امام نے نماز پوری کی ایسی صورت میں کچھ لوگ دوسری بلڈنگ پر تھے
(۲) ان کو امام کے رکوع میں جانے کا پتہ نہ چلا ان لوگوں ے قنوت کے لے ہاتھ اٹھاے اور قنوت پڑھی بعد میں جب تسمیع سنی تو امام کی اقتداء کرنے لگے تو اب انکے وتر ہوے یا نہیں ؟ اور امام کو رکوع سے دوبارہ اٹھنہ چاہے تھا یا نہیں ؟

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 171398

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1010-856/D=10/1440



(۱) امام نے سجدہ سہو کرکے نماز پوری کرلی تو اس کی نماز ہوگئی۔



(۲) دوسری بلڈنگ کے لوگ اگر امام کے رکوع کرنے کے بعد ہی صحیح اپنا رکوع کرکے امام کے ساتھ قومہ میں شامل ہوگئے تو ان کی نمازیں درست اور صحیح ہوگئیں اور اگر انہوں نے رکوع نہیں کیا بغیر رکوع کے ہی قومہ میں امام کے ساتھ شامل ہوگئے تو انہیں اپنی نماز دہرانی ہوگی۔



(۳) قنوت بھول کر جب امام رکوع میں چلا گیا تو اب اسے قنوت پڑھنے کے لئے قیام کی طرف لوٹنا نہیں چاہئے۔ قال فی الدر: ولو نسیہ ای القنوت ثم تذکرہ فی الرکوع لایقنت فیہ لفوات محلہولا یعود الی القیام فی الاصح لان فیہ رفض الفرض للواجب (الدر مع الرد: ۲/۴۴۷) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات