عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171351

میرا سوال یہ ہے کہ جو عمارت سود کے پیسے سے بنی ہے وہاں نماز یا تراویح کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 171351

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 986-840/D=10/1440



اگر مکمل تعمیر سود کی آمدنی سے ہوگئی تو اس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اگر سودی لین دین کرنے والے نے جائز رقم سے تعمیر کرائی ہے تو اس میں نماز پڑھنے کی گنجاش ہے۔



نوٹ: تعمیر میں مکمل سود کی رقم لگی ہے اس کا حکم بہت تحقیق و تفتیش کے بعد کرنا چاہئے یونہی اندازہ (اٹکل) سے حکم نہیں لگانا چاہئے کہ لوگوں کی نمازیں برباد ہوں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات