عبادات - صلاة (نماز)

india

سوال # 171317

ایک گاؤں کے مسلمان اپنے گاؤں میں مسجد بنانے کی بات کرتے ہے کیوں کہ ان کے اور آس پاس کے گاؤں میں کوئی مسجد نہیں ہے ، تو مسجد بنانے کے سلسلے میں گاؤں کے لوگ اکٹھا ہوکر گاؤں کے پردھان کے پاس جاتے ہے اور گاؤں میں مسجد بنانے کی بات رکھتے ہیں تو گاؤں کا پردھان انہیں گاؤں کے باہر خالی پڑی ہوئی زمین پر مسجد بنانے کی اجازت دے دیتا ہے اور پردھان اور گاؤں کے مسلمان اور کچھ غیر مسلم کی مدد سے وہاں مسجد تعمیر ہو جاتی ہے، اس مسجد کو بنے ہوئے تقریباً پینتالیس سے پچاس سال ہو چکے ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ اس مسجد میں نماز پڑھنے سے کیا نماز ہو جائے گی ، اور مسجد بنانے والے مسلمانو کو اس مسجد کو تعمیر کرنے کا اجر ملے گا یا گناہ ؟
( نوٹ - مسجد گاؤں کے باہر کی خالی پڑی زمین میں بنائی گئی ہے، یہ زمین حکومت کے حساب سے خاد کے کھڈے یعنی بیکار زمین کہلاتی ہے )

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 171317

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1008-854/D=10/1440



نماز پڑھنا اس مسجد میں جائز ہے کیونکہ یہ خالی زمین گاوٴں کے مالکان کی زمینوں ہی میں سے نکالی گئی ہے اور سب کی اجازت مسجد بنانے میں شامل ہے اس لئے نماز پڑھنا جائز ہے؛ البتہ اس طرح کی زمین حکومت کی تحویل اور اختیار میں ہوتی ہے اس لئے حکومت سے بحق مسجد مالکانہ حاصل کر لئے جائیں اور کاغذات میں اندراج بھی کرا دیا جائے تاکہ کوئی نزاع پیدا نہ ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات