عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171243

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں؛
(۱ ۔ا یک شخص کرسی پر بیٹھ کر مسجد میں نماز ادا کرتا ہے، تو اس کے لئے صف بندی کیسے ہوگی؟ کیونکہ وہ قیام کھڑے ہو کر کرتا ہے ،اس لیے کہ وہ کھڑے ہونے پر قادر ہے، تو جب اسے کھا جاتا ہے کہ بیٹھ کر نماز ادا کرو ،تو وہ کہتا ہے کہ قیام فرض ہے اور صف بندی سنت ہے، تو اب صف سدہی کر نے کے لئے کرسی کے اگلا پیا یا پھر پچھلا پیا صف کے برابر رکھا جائے گا؟
۲ ۔کیا یہ شخص صف کے کسی بھی حصہ میں نماز ادا کر سکتا ہے یا پھر وہ صف کے ایک کنارے میں نماز ادا کرے ؟ مفصل جواب مطلوب ہے۔ مہربانی ہوگی۔

Published on: Aug 1, 2019

جواب # 171243

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1294-1169/L=11/1440



(۱،۲)کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص صف کے کسی حصہ میں نماز ادا کرسکتا ہے، اگر وہ شخص باقاعدہ قیام کرتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کرسی اس طرح رکھے کہ پچھلے پائے صف میں کھڑے مقتدیوں کے ایڑیوں کے برابر ہوں تاکہ بیٹھنے کی صورت میں اس کا کندھا دیگر مقتدیوں کی سیدھ میں ہو ،اگر کرسی کے اگلے پائے صفوں میں ہوں گے تو پچھلی صف میں کھڑے مقتدیوں کو تکلیف ہوگی یا پچھلی صف میں خلل پیدا ہوگا۔



عن أبی مسعود، قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمسح مناکبنا فی الصلاة، ویقول: استووا، ولا تختلفوا، فتختلف قلوبکم، لیلنی منکم أولو الأحلام والنہی ثم الذین یلونہم، ثم الذین یلونہم(صحیح مسلم 1/ ۱۸۱،باب تسویة الصفوف، وإقامتہا...الخ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات