عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171203

مفتی صاحب اس امام کو کیا کرنا چاہیے جو عشاء کی چار فرض پڑھائے جماعت کے ساتھ۔ لیکن چوتھی رکعت میں جہراََ قرات کرے الحمد اور دوسری سورت بھی پڑھے ۔کیا سجدہ سہو کرے یا نماز لوٹانی ہے؟ اس پر اگر کسی مستند کتاب کا حوالہ دے تو بہتر ہو؟ اور سجدہ سہو کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے؟

Published on: Jul 21, 2019

جواب # 171203

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:895-732/N=11/1440



(۱): اگر امام نے عشا کی فرض نماز کی چوتھی رکعت میں بھول کر جہری قراء ت کردی تو اخیر میں سجدہ سہو کرلینا کافی ہے، نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔



والجھر فیما یخافت فیہ للإمام الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة باب سجود السھو، ۲: ۵۴۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”ویسر في غیرھا“: وھو الثالثة من المغرب والأخریان من العشاء الخ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، فصل في القراء ة، ۲: ۲۵۱)، ومنھا الجھر والإخفاء حتی لو جھر فیما یخافت أو خافت فیما جھر وجب علیہ سجود السھو …ھکذا في التبیین، (الفتاوی الھندیة، کتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السھو، ۱: ۱۲۸، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



(۲):سجدہ سہو کن کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل کے لیے آپ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیر آبادی دامت برکاتہم مفتی دار العلوم دیوبند کا کتابچہ: مسائل سجدہ سہو کا مطالعہ کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات