عبادات - صلاة (نماز)

bangladesh

سوال # 171196

میں عمان کے ایک مسجد کا مؤذن ہوں، یہاں کے بہت سے مساجد کے امام رمضان میں نماز وتر ایک سلام سے تین رکعت تو پڑھتے ہیں لیکن دعائے قنوت بالکل نہیں پڑھتے ہیں، اس حالت میں میں رکوع میں جانے سے پہلے مختصر دعائے قنوت پڑھ لیتا ہوں اس کے بعد رکوع میں شریک ہوتا ہوں،اور میرے لیے وتر علیحدہ ادا کرنا بھی مشکل ہے، اب سوال یہ ہے کہ حالت مذکورہ میں میرا وتر صحیح ہوتا ہے یا نہیں؟

Published on: Jul 6, 2019

جواب # 171196

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 967-818/D=10/1440



صورت مسئولہ میں آپ کا وتر صحیح ہوگیا، ہندیہ میں ہے ولو رکع الامام ولم یقرأ القنوت ولم یقرأ المقتدی من القنوت شیئاً إن خاف فوت الرکوع فانہ یرکع وان کان لایخاف یقنت ثم یرکع کذا فی الخلاصة (ہندیہ: ۱/۱۷۰)



اور اگر امام رکوع سے پہلے دعاء قنوت پڑھتا ہی نہیں بلکہ قومہ میں پڑھتا ہے تو آپ رکوع سے پہلے پڑھنے کے بجائے قومہ ہی میں پڑھیں۔



امام کے غیر حنفی ہونے کی صورت میں آپ مطلقاً وتر کی نیت کریں واجب کی نیت نہ کریں، اس طرح کہ میں وتر کی نماز پڑھ رہا ہوں۔



قال فی الدر المختار: وصح الاقتداء فیہ بشافعی مثلاً لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح فیہما للاتحاد وان اختلف الاعتقاد ولذا ینوی الوتر لا الوتر الواجب کما فی العیدین للاختلاف قال الشامی تحت قولہ علی الاصح فیہما: ای فی جواز اصل الاقتداء فیہ بشافعی وفی اشتراط عدم فصلہ (ج: ۲/۴۴۴، الدر المختار) قال فی الہندیہ: ولو صلی الوتر بمن یقنت فی الوتر بعد الرکوع فی القومة والمقتدی لایری ذالک تابعہ فیہ ہکذا فی فتاوی قاضیخان (ہندیہ: ۱/۱۷۱) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات