عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 171189

سجدے والی آیت پر رکوع کرنے سے سجدے کی ادائیگی ہو جائے گی؟مدلل جواب دیں۔

Published on: Aug 7, 2019

جواب # 171189

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:888-834/N=12/1440



 



جی ہاں! اگر نماز میں آیت سجدہ پڑھ کر فوراً یا تین یا اس سے زیادہ آیات کی تلاوت سے پہلے رکوع کرلیا جائے اور رکوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت کرلی جائے تو سجدہٴ تلاوت ادا ہوجاتا ہے۔ اور اگر کسی نے رکوع میں سجدہٴ تلاوت کی نیت نہیں کی تو رکوع کے بعد سجدہ کرنے سے سجدہ تلاوت خود بہ خود ادا ہوجائے گا، اس میں نیت کی بھی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص امام ہواور آیت سجدہ کی تلاوت کرے تو اسے مستقل سجدہ تلاوت کرنا چاہیے، نماز کے رکوع میں سجدے کی نیت کرکے سجدہ تلاوت نہیں ادا کرنا چاہیے ؛ کیوں کہ امام نے اگر رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کی تو ہر مقتدی کا امام کے ساتھ رکوع ہی میں سجدہ تلاوت کی نیت کرنا ضروری ہوگا، اور اگر کسی مقتدی نے امام کے ساتھ رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت نہیں کی تو اس کا سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا خواہ اس مقتدی کو امام کی نیت کا علم ہو یا نہ ہو، اور امام کی نیت مقتدیوں کے حق میں کافی نہیں ہوگی خواہ نماز سری ہو یا جہری، ہمارے اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک صحیح وراجح یہی ہے۔(امداد الفتاوی ۱: ۵۵۴،۵۵۵، سوال: ۴۷۸،۴۷۹، فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل۷:۴۶۴- ۴۶۶، سوال: ۳۵۵۶- ۳۵۵۸، ۲۲: ۲۳۴، ۲۳۵، سوال: ۱۰۴۴۳، فتاوی رحیمیہ۵: ۲۰۱، ۲۰۲مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، حاشیہ فتاوی دار العلوم دیوبند ۴: ۲۸۷، سوال: ۱۸۵۵اور خیر الفتاوی ۲: ۵۴۳،۶۵۷وغیرہ )؛ اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ اگر کوئی امام نماز میں آیت سجدہ کی تلاوت کرے تو مستقل سجدہ تلاوت کرے، نماز کے رکوع سے سجدہ تلاوت ادا نہ کرے ۔



وتوٴدی برکوع صلاة إذا کان الرکوع علی الفور من قراء ة آیة أو آیتین …إن نواہ أي: کون الرکوع لسجود التلاوة علی الراجح، وتوٴدی بسجودھا کذلک علی الفور وإن لم ینو بالإجماع، ولو نواھا في رکوعہ ولم ینوہ الموٴتم لم تجزہ ویسجد إذا سلم الإمام ویعید القعدة ولو ترکھا فسدت صلاتہ کذا في القنیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ۲: ۵۸۶، ۵۸۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات