عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 170984

سوال نمبر 1-امام کے پیچھے مقتدی کو الحمد شریف پڑھنی چاہیے یا نہیں؟
سوال نمبر2-فرض چار رکعت نماز میں چاروں رکعت میں الحمد شریف کے بعد کوئی دوسری سورة بھی پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

Published on: Jun 22, 2019

جواب # 170984

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1102-115T/L=10/1440



احناف کے نزدیک سری جہری ہرنماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں، امام کی قراء ت مقتدی کی قراء ت کی طرف سے کافی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاِذَا قُرِء الْقُرْآَنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اعراف: ۲۰۴) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز میں قراء ت کی اور آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب نے بھی بلند آواز سے قراء ت کی جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں گڑبڑی پیدا ہوئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اصحاب رسول میں عبد اللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابن عباس، عبد اللہ بن مغفل رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین میں سعید بن جبیر، ابن رباح، ابراہیم نخعی، شعبی، حسن بصری، امام زہری، مجاہد، قتادہ اور اکثر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ یہ آیت نماز کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر: ۲۸۰/۲-۲۸۱) نیز مسلم شریف اور دیگر کتب احادیث میں اس کی صراحت ہے کہ جب امام قراء ت کرے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ خاموش رہیں۔



عن أبی ہریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنما جعل الإمام لیوتم بہ فإذا کبَّر فکبروا وإذا قرأ فأنصتوا الحدیث (مسلم شریف: ۱۷۴/۱) عن أبی موسی قال علمنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا قمتم إلی الصلاة فلیومکم أحدکم وإذا قرأ الامام فأنصتوا (مسند احمد: ۴۱۵/۵)



(۲) فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی چھوٹی سورت،یاکسی سورت سے چھوٹی تین آیتیں یا ایک بڑی آیت (جس میں کم ازکم تیس حروف ہوں)کا ملانا واجب ہے ۔



وضم أقصر سورة کالکوثر أوما قام مقامہا، وہو ثلاث آیات قصار، نحو ثم نظر، ثم عبس وبسر، ثم أدبر واستکبر، وکذا لو کانت الآیةأو الآیتان تعدل ثلاثا قصارًا، ذکرہ الحلبی، فی ا لأولیین من الفرض. (الدرالمختار:۲/۱۵۰،ط:زکریا دیوبند)



فرض کی اخیر کی دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر اکتفاء کرنا چاہیے ؛البتہ سنن ونوافل کی چاروں رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کا ملانا ضروری ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات