عبادات - صلاة (نماز)

INDIA

سوال # 170980

میں پھاڑ پور ،سمری بختیار پور ،سہر سہ ، بہار سے تعلق رکھتا ہوں میرے گاؤں میں زمانہ قدیم سے اوقات نماز جامعہ رحمانی مونگیر کا رائج ہے گزشتہ کچھ مدت سے کمپیوٹر کے ذریعہ طے کئے گئے اوقات ہمارے ضلع سہرسہ میں عوام میں مقبول ہے ، کچھ گاؤں کے عوام میں مونگیر کے ہی اوقات سے عوام نماز و روزہ ادا کرتے ہیں ، رمضان کے دوران مونگیر کے اوقات کو لے کر مسجدوں میں اختلاف ہوتا ہے مثلاً ختم سحری کا وقت مونگیر کے اوقات میں 3بجکر 30منٹ ہے تو وہی کمپیوٹر کے مطابق اوقات پر 3بجکر 40منٹ پر ختم ہوتا ہے ، علاوہ ازیں امارت شریعہ بہار کے ذریعہ شائع کردہ افطار وسحر کے اوقات بھی رحمانی مونگیر کے اوقات سے متفرق ہے امارت شریعہ کا وقت کمپیوٹر سے ملتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگ کس اوقات کو مانیں ہماری مسجد میں کچھ لوگ کہتے ہیں کی مونگیر کے اوقات کو بدل نہیں سکتے امارت کے وقت کو بھی نہیں مانتے ہیں کہتے ہیں کے باپ ، دادا کے زمانے سے ہے ۹۵ فیصد لوگوں نے افطار و سحر میں امارت شریعہ کے یا کمپیوٹر کے وقت کے مطابق کرتے ہیں امارت شریعہ بھی مونگیر کے خلاف جواب دینے سے قاصرہے بہتر رہنمائی کی گزارش ہے۔

Published on: Jul 7, 2019

جواب # 170980

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1099-1002/L=10/1440



کون سی جنتری صحیح ہے اس کی تحقیق حددرجہ دشوار اور دیر طلب امرہے ؛البتہ عباداتِ میں احتیاط پر عمل کرنا اور عمل کو ضائع ہونے سے بچانا مناسب بلکہ بسا اوقات ضروری ہوتا ہے ؛اس لیے آپ حضرات احتیاط پر عمل کرتے ہوئے ختمِ سحر مونگیر والی جنتری کے اعتبار سے کرلیا کریں اور اذان اس وقت دیا کریں جبکہ کمپیوٹر والی جنتری کے حساب سے بھی فجر کا وقت ہوجائے تاکہ روزہ یا اذان وغیرہ میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات