عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 170437

اگر کوئی شخص امام کی اقتداء اسوقت کی جبکہ امام قعدہ اولی میں ہے جوں ہی مسبوق اقتداء کر کے قعدہ اولی میں بیٹھا ویسے ہی امام تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوگیا تو کیا مسبوق بھی امام کی اقتداء کرکے کھڑا ہوجائے یا التحیات کو پوری کر کے کھڑا ہو ۔ برائیکرم جو مسٴلہ ہو اسے واضح فرمأیں قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔

Published on: May 21, 2019

جواب # 170437

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:990-868/L=9/1440



ایسی صورت میں مسبوق کو چاہیے تشہد کو مکمل کرکے پھر کھڑا ہو ،اگر کوئی بغیر تشہد پڑھے ہی کھڑا ہوگیا تو بھی اس کی نماز کراہت کے ساتھ درست ہوجائے گی ۔



 إذا أدرک الإمام فی التشہد وقام الإمام قبل أن یتم المقتدی أو سلم الإمام فی آخر الصلاة قبل أن یتم المقتدی التشہد فالمختار أن یتم التشہد. کذا فی الغیاثیة وإن لم یتم أجزأہ.(الفتاوی الہندیة 1/ 90) لو اقتدی بہ فی أثناء التشہد الأول أو الأخیر، فحین قعد قام إمامہ أو سلم، ومقتضاہ أنہ یتم التشہد ثم یقوم...(قولہ ولو لم یتم جاز) أی صح مع کراہة التحریم (الدر المختارمع رد المحتار:۲/۲۰۰،ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات