عبادات - صلاة (نماز)

Afghanistan

سوال # 170407

سوال یہ ہے کہ ایک تارک الصلوة آدمی سے دوسروں کو کیا نقصان ہوگا اس کے زندگی میں زندوں کو اور مرنے کے بعد اہل قبرستان کو ؟براہ کرم، تفصیل سے جلد از جلد جواب دے دیجیئے ۔

Published on: May 17, 2019

جواب # 170407

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:915-915/SN=9/1440



ترک نماز گناہ اور حد درجہ فسق ہے، جو شخص نماز چھوڑے گا اس کا وبال تو خود اسی کو بھگتنا پڑے گا، دوسرا نہیں بھگتے گا، قرآن کریم میں ہے: ولا تزر وازرة وزر أخری (النجم) لیکن ایسے آدمی کے ساتھ اختلاط سے دوسروں کو بھی بچنا چاہیے؛ کیونکہ فسق وفجور میں مبتلا شخص کے ساتھ اختلاط کی وجہ سے بسا اوقات دوسروں کے اندر بھی محسوس یا غیر محسوس طریقے پر وہ برائی پیدا ہوجاتی ہے، نیز اس میں اور بھی مفاسد ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات