عبادات - صلاة (نماز)

????? ?????

سوال # 170224

اگر نماز میں قرأت کرتے ہوئے اگر 30 حروف یا اس سے کم یا پھر 30 حروف سے زیادہ چھوٹ جائے یا جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو ایسی صورت میں میں نماز کا کیا حکم ہے ؟

Published on: May 29, 2019

جواب # 170224

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 842-750/D=09/1440



قرأت میں تیس یا کم و بیش حروف کے چھوٹنے کی کوئی قید نہیں ہے قصداً چند حروف بھی چھوڑنا مکروہ ہے اور بھول کر یا قصداً چھوٹ جانے سے اگر معنی کا ایسا تغیر ہوجو حد کفر وغیرہ کو پہونچ جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ قال فی الہندیة: ومنہا حذف حرف ․․․․․ ان لم یکن علی وجہ الایجاز والترخیم بان کان لا یغیر المعنی لا تفسد صلاتہ نحو ان یقرأ ولقد جآء تہم رسلنا بالبَیّنات بترک التاء وإن غیر المعنی تفسد صلاتہ نحو ان یقرأ فما لہم لا یوٴمنون فی لا یوٴمنون بترک ”لا“ (ہندیہ: ۱/۱۳۷) ۔



وفی الشامی: ․․․․․․․ لو انتقل فی الرکعة الواحدة من آیة الی آیة یکرہ وإن کان بینہما آیات بلا ضرورة فان سہا ثم تذکر یعود مراعاة لترتیب الآیات (الدر مع الرد: ۱/۲۲۹) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات