عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 170190

مفتی صاحب میں نے پہلے ایک سوال میں مسجد کی بجلی کے بارے میں پوچھا تھا کہ مسجد کی بجلی چوری کی ہے ، اب یہ پوچھنا ہے کہ میرے کہنے کے باوجود اور استطاعت رکھنے کے باوجود گاؤں کے لوگ میٹر نہیں لگوارہے ، یہ فرما دیجیئے کہ اب میرے لئے اس مسجد میں امامت کا کیا حکم ہے ؟ کیا میں امامت چھوڑ دوں؟ براہ مہربانی جواب جلدی دیجئے ۔

Published on: May 13, 2019

جواب # 170190

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 862-700/SN=09/1440



امامت کی گنجائش ہے، امامت نہ چھوڑیں؛ ہاں حکمت و بصیرت سے ذمے داران کو سمجھاتے رہیں کہ بجلی کی چوری ناجائز ہے اور مسجد میں ایسی بجلی کا استعمال تو اور بھی برا ہے، مسجد اللہ کا گھر ہے، اس میں پاکیزہ چیزوں کا ہی استعمال ہونا چاہئے، اگر آپ کوشش کرتے رہیں گے تو ان شاء اللہ ذمے داران مان جائیں گے اور میٹر لگوا لیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات