عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 170182

(۱)قصر نماز میں فرض تو دو پڑھتے ہیں ، لیکن سنت اور نفل کس طرح ادا کریں؟
(۲) عشاء کی نماز میں چاررکعت سنت ، چار رکعت فرض، دو رکعت سنت اور دو نفل ، تین وتر اور دو نفل ہوتے ہیں، اگر قصر کریں تو کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں؟
(۳) زید اگر نماز کی پہلی رکعت میں دو سجدے کی جگہ ایک سجدہ کرے بھول سے پھر آگے نماز میں اسے دھیان آئے تو وہ دوسری یا تیسری رکعت میں اس نے سجدے کی قضا کے لیے تین سجدے کئے تو اس طرح نماز درست ہوجائے گی یا سجدہ سہو کرنا پڑے گا یا پھر دوبارہ ہی نماز پرھنی پڑے گی؟

Published on: Jun 22, 2019

جواب # 170182

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:948-112T/L=10/1440



(۱،۲)قصر کرنے کا حکم صرف چاررکعت والی فرض نماز کے ساتھ خاص ہے،سنن ونوافل یا وتر میں قصر کا حکم نہیں ہے (گووتر کی ادائیگی لازم ہے)البتہ سفر میں سنن کی ادائیگی کا تاکیدی حکم نہیں رہتا ان کے چھوڑ نے کی گنجائش رہتی ہے ؛البتہ علماء نے صراحت کی ہے کہ اگر سفر کی جلدی نہ ہو، تو بہتر یہی ہے کہ فرائض کے ساتھ سننِ موکدہ بھی اداء کرلیا جائے ، اور اگر اطمینان کی کیفیت نہ ہو اور سفر کی جلدی ہو، تو ایسی صورت میں سننِ موکدہ ترک کردینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔



ویأتی المسافر بالسنن إن کان فی حال أمن وقرار وإلا بأن کان فی خوف وفرار لا یأتی بہا ہو المختار لأنہ ترک لعذر۔ (شامی مع الدر ۶۱۳/۲زکریا)إن الرواتب لا تبقی مؤکدة فی السفر کالحضر، فینبغی مراعاة حال الرفقة فی إتیانہا، فإن أثقل علیہم ترکہا أو أخرہا حتی یأتی بہا علی ظہر الراحلة۔ (إعلاء السنن ۲۹۰/۷کراچی) (۳) صورتِ مسئولہ میں سجدہ سہوکرنا ضروری ہوگا ،ورنہ وقت رہتے ہوئے اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا ۔وکذا إذا سجد فی موضع الرکوع أو رکع فی موضع السجود أو کرر رکنا أو قدم الرکن أو أخرہ ففی ہذہ الفصول کلہا یجب سجود السہو(الفتاوی الہندیة 1/ 127)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات