عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 170118

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں : ہماری مسجدجامع مسج معظم پورہ ملے پلی حیدر آباد میں کئی سال سے ہر سال رمضان المبارک کی نماز تراویح میں پہلے دہے میں نچلی منزل (گراؤنڈ فلور) پر سوا پارہ اور دوسری منزل (سکنڈ فلور) میں تین پارے اور مسجد سے متصل جماعت کے کمرہ میں تین پارے تلاوت کئے جاتے ہیں، اس طرح علاحدہ علاحدہ تراویح کی تین جماعتیں ہوتی ہیں۔ پھر دوسرے دہے میں نچلی منزل اور دوسری منزل اسی سلسلے کے ساتھ دوسری منزل کی چھت (اوپن ایریا) میں الم تر سے سورہ ناس ، اسی طرح جماعت کے کمرہ میں بھی الم تر سے سورہ ناس کی تلاوت کا سلسلہ چلتا ہے ۔ اس طرح تراویح کی چار جماعتیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے آوازیں ٹکراکر خلل ہورہا ہے ، اب اس سلسلہ میں سوال یہ ہے کہ ۱۔کیا ایک مسجد اور متصل کمرہ میں تاجرین کی سہولت کے لئے بیک وقت نماز تراویح کی تین یا چار جماعتیں قائم کی جاسکتی ہیں؟ جب کہ اس سے خلل واقع ہورہا ہے ؟
۲۔اگر ایسا انتظام کیا جائے کہ خلل واقع نہ ہوتا ہو تو کیا ایک مسجد اور اس سے متصل کمرہ میں نماز تراویح کی علاحدہ علاحدہ تین یا چار جماعتیں کی جاسکتی ہیں؟ جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً المستفتی : عبد اللہ ، مصلی جامع مسجد معظم پورہ ملے پلی

Published on: May 13, 2019

جواب # 170118

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 789-695/D=09/1440



آواز ٹکرائیں ایسی صورت میں ایک مسجد میں ایک سے زائد جماعت کرنا مکروہ ہے اوراگر آواز نہیں ٹکراتیں تو بھی خلاف اولیٰ ہے۔ ہاں مسجد کے متصل کمرے میں تراویح کی جماعت بلاکراہت جائز ہے؛ البتہ سب لوگ عشاء کی نماز مسجد میں ایک ہی جماعت سے پڑھیں پھر کمرے میں آکر تراویح ادا کرلیں اور آواز ٹکرانے سے کسی جماعت والوں کوخلل نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات