عبادات - صلاة (نماز)

INDIA

سوال # 170117

کوئی شیعہ سنی کی جماعت میں شریک ہوجائے تو کیا باقی سارے لوگوں کی نماز میں فرق پڑے گا؟

Published on: May 19, 2019

جواب # 170117

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:785-662/N=9/1440



ہمارے ملک(ہندوستان) میں ، اسی طرح پاکستان اور بنگلہ دیش میں جو شیعہ پائے جاتے ہیں، وہ عام طور پر اثنا عشری ہیں، اور اثنا عشری شیعہ اپنی کتب مذہب کی روشنی میں بعض ایسے عقائد رکھتے ہیں، جو بلاشبہ کفریہ ہیں، جیسے: یہ لوگ امت مسلمہ کے درمیان موجودقرآن کریم کو ناقص ،محرف اورغیر معتبر مانتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ پر - العیاذ باللہ - زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور قرآن پاک کی براء ت نہیں مانتے، حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں اور وحی پہنچانے میں حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف غلطی کی نسبت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ عقائد بلا شبہ کفریہ عقائد ہیں ، ان میں واضح طور پر ضروریات دین کا انکار ہے؛ اس لیے اہل حق علما کے نزدیک اثنا عشری شیعہ کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، ان سے کسی طرح کا ربط وضبط وغیرہ نہیں رکھنا چاہیے اور نہ انھیں مسلمانوں کی مساجد میں آنے کی اجازت دینی چاہیے۔ اور اگر کسی شیعہ نے اتفاقی طور پر مسلمانوں کی مسجد میں پہنچ کر ان کے ساتھ نماز پڑھ لی تو مسلمانوں کونماز لوٹانے کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ آئندہ خیال رکھیں۔



لا شک في تکفیر من قذف السیدة عائشة رضي اللہ عنھا أو أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الألوھیة في علي أن جبریل غلط فی الوحي أو نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن (ردالمحتار، کتاب الجھاد، باب المرتد، ۶:۳۷۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ویجب إکفار الروافض في قولھم برجعة الأموات إلی الدنیا وبتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإلہ إلی الأیمة وبقولھم في خروج إمام باطن وبتعطیلھم الأمر والنھي إلی أن یخرج الإمام الباطن وبقولھم إن جبریل علیہ السلام غلط فی الوحي إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم دون علي بن أبي طالب رضي اللہ عنہ۔ وھوٴلاء القوم خارجون عن ملة الإسلام وأحکامھم أحکام المرتدین کذا فی الظھیریة (الفتاوی الھندیة، کتاب السیر، الباب التاسع في أحکام المرتدین، مطلب موجبات الکفر أنواع، ۲:۲۶۴، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، نیز باقیات فتاوی رشیدیہ (ص۲۹۷،۵۹۵،۵۹۶، ناشر: مفتی الہی بخش اکیڈمی ، کاندھلہ، مظفر نگر) اور فتاوی رشیدیہ (ص۵۶، مطبوعہ: گلستاں کتاب گھر، دیوبند) دیکھیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات