عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 169994

میرا سوال یہ ہے کہ ایک آدمی اگر کسی عذر جیسے جلدی ہو یا نوکری سے وقت لیکر آیا ہو اور اس نے صرف فرض نماز ادا کرکے چلا جائے جبکہ اس کو یہ علم ہو کہ سنتِ موکدہ بھی پڑھنی چاہیے ، تو کیا اس کو اپنے کام سے فراغت پر (جبکہ اُس نماز کا وقت ختم ہو چکا ہو) قضاء کرنی چاہیے یا نہیں؟
برائے مہربانی اس مسئلہ میں رہبری فرمائیں۔

Published on: Apr 30, 2019

جواب # 169994

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 810-720/M=08/1440



اگر شرعی عذر ہے مثلاً آدمی مسافر ہے اور عجلت و بے اطمینانی کی حالت میں ہے تو سنن کو چھوڑ سکتا ہے اور سکون و قرار کی کیفیت ہے تو سنن کو پڑھ لینا اولیٰ ہے اور غیر شرعی عذر کا اعتبار نہیں، اگر آدمی مسافر تو نہیں ہے لیکن کسی وجہ سے اسے جلدی ہے اور وہ فرض پڑھ کر کام میں لگ جائے تو وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے سنت موٴکدہ ادا کرنے کی کوشش کرے قصداً ترک نہ کرے، اگر کوشش و چاہت کے باوجود سنت موٴکدہ رہ جائے اور وقت ختم ہو جائے تو بعد میں صرف سنت کی قضاء نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات