عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 169992

اول میری نماز فجر ترک ہوگئی جس کی قضاء میں نے ظہر میں کی۔ نیت کچھ اس طرح کیا کہ “دو رکعت فجر کی قضاء پڑھتا ہوں” اور فوراً رکعت باندلیا پھر نماز میں خیال آیا کہ وقت کی تعیین نہیں کیا۔ پھر خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں وہ سب کچھ جانتا ہے ہم جو سوچتے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو مستقبل میں سوچیں گے وہ بھی ہم سے بہتر جانتا ہے ۔ لہٰذا میں نے پہلے والے خیال کی طرف سے توجہ ہٹاکر اپنی قضاء نماز کو مکمل کیا۔ تو کیا میری ناقص نیت سے میری قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
دوم مسجد کے باہر جو فقراء ہوتے ہیں ان کے سلام کا جواب دنیا کیسا ہے ؟ واجب ہے یا نہیں؟ ان کو پیسے دینا کیسا ہے ؟
براہ کرم صحیح رہنمائی فرمائیں

Published on: Apr 29, 2019

جواب # 169992

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 809-723/M=08/1440



(۱) صورت مسئولہ میں آپ کی قضاء نماز درست ہوگئی۔



(۲) فقراء (مساکین) کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں کیونکہ وہ اپنی ضرورت و محتاجگی کے اظہار کے لئے سلام کرتے ہیں یا یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ کچھ مل جائے گا تو یہ سلام کرنا بے محل ہے اس لئے اس کا جواب واجب نہیں، السائل اذا سلّم لایجب رد سلامہ کذا فی الخلاصة الخ (ہندیہ) ہاں اگر سائل دروازے پر کھڑا نہیں ہے یا موقع محل و احوال سے پتہ لگ جائے کہ سائل کا مقصد سوال کرنا نہیں ہے بلکہ عام حالات میں سلام کر رہا ہے تو پھر اس کا جواب دینا لازم ہے۔ اور سائل کو حسب استطاعت کچھ دے دینا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات