عبادات - صلاة (نماز)

Myanmar

سوال # 165850

اگر میں نے سہواً امامت کرتے وقت کسی آیت کو غلط پڑھ لیا جو نماز کو بھی فاسد کرتی ہے پھر فورا ً میں نے اسی آیت کو دوہرایا صحیح طور پر تو اس صورت میں نماز درست ہوجائے گی یا لوٹانی پڑے گی؟

Published on: Oct 24, 2018

جواب # 165850

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:95-58/N=2/1440



صورت مسئولہ میں جب غلط پڑھی ہوئی آیت دہراکر درست کرلی گئی تو نماز ہوگئی، اعادے کی ضرورت نہیں، مفتی بہ قول یہی ہے ( امداد الفتاوی اور اس کا حاشیہ ، ۱: ۲۵۱- ۲۵۷، سوال: ۲۲۵، مطبوعہ :مکتبہ زکریا دیوبند، اور فتاوی رحیمیہ ، ۵:۱ ۹، جواب سوال: ۶۹، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی وغیرہ)۔



وفی المضمرات: قرأ فی الصلاة بخطإ فاحش ثم أعاد وقرأ صحیحاً فصلاتہ جائزة (حاشیة الطحطاوي علی الدر المختار،۱: ۲۶۷ط: مکتبة الاتحاد دیوبند)، ذکر فی الفوائد: لو قرأ فی الصلاة بخطإفاحش ثم رجع وقرأ صحیحاً ، قال: عندي صلاتہ جائزة (الفتاوی الھندیة، ۱: ۸۲، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات