عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 163030

حضرت مفتی صاحب، کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ باشرع حافظِ قرآن کے نام بورڈ پر لکھ دیئے گئے تھے ، جگہ بھی بتادی گئی تھی، لیکن ٹھیک آخری وقت چاند رات کے دن عشاء کے وقت پر بے شرع حافظ کے والد صاحب نے کہا کہ ایک مفتی صاحب سے بات ہوئی ہے کل آپ کو میں فتویٰ دے دوں گا جس میں لکھا ہے کہ میرے بیٹے کے پیچھے تراویح ہو جائے گی، اس بات پر متولّی(صدر) صاحب نے باشرع حافظ صاحب کی جگہ بے شرع حافظ کو دے دی۔اور جب کہ صدر صاحب نے بورڈ پر لکھ کر لگایا تھا کہ اس سال سے باشرع حافظ ہی درخواست لے کر آیں۔ اور رمضان المبارک سے 20دن پہلے تک درخواستیں لینا بند کر دی جائے یں گی۔ دوسری بات یہ کہ باشرع حافظ صاحب کے موجود ہوتے ہوئے بے شرع حافظ کو جگہ دے دی جس سے انکا دل ٹوٹ گیا اور وہ مسجد چھوڑ کر چلے گئے جب کہ ان کا نام قراندازی میں آچکا تھا۔کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز۔ تیسرا یہ کہ پچھلے سال کے بے شرع حافظِ قرآن صاحبان نے بھی آواز اٹھائی ہے کہ ہمیں بے شرع ہونے کی وجہ سے مسجد سے باہر نکال دیا اور اب ایک بے شرع حافظ مسجد میں تراویح قائم کررہے ہیں۔ متولّی(صدر) صاحب کے اس فیصلے سے ایک حافظِ قرآن نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کو مناکر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم بھی بے شرع ہیں جیسے وہ ہیں جن کو جگہ دی گئی ہے ، تو ہمیں بھی جگہ ملنی چاہیے ۔ کیا ایسے بے شرع حافظِ قرآن کے مسجد میں سنانے سے عوام کو غلط سبق نہیں جائیگا۔ اوراس بے شرع حافظ سے داڑھی رکھنے کو کہا تو انھوں نے کہا کہ کھجلی کی وجہ سے ڈاکٹر نے انھیں بنا داڑھی کے رہنے کو کہا ہے تاکہ دوائی ٹھیک سے لگ سکے ، اور 10-12سال سے اسی طرح تراویح کی امامت کر رہے ہیں۔ حضرت آپ سے گزارش ہے کہ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔ جَزَاکَ اللّہُ

Published on: Jul 10, 2018

جواب # 163030

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1191-1035/D=10/1439



داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے کی امامت مکروہ تحریمی ہے ذمہ داران مسجد کو اس کا اہتمام والتزام کرنا چاہیے کہ امام ایسے شخص کو بنائیں جو داڑھی سنت کے مطابق رکھے اور دیگر وضع قطع خلاف سنت نہ ہو اس کے خلاف کرنے پر ذمہ داران مسجد کو تمام نمازیوں کی نماز خراب کرنے کا گناہ ہوگا، ذمہ داران مسجد اس بات کے پابند اور ذمہ دار ہیں کہ مسجد کا نظم وانتظام احکام شریعت کے مطابق کریں نہ کہ اپنی طبیعت اور لوگوں کی خوشنودی اس میں پیش نظر رکھیں۔



صورت مسئولہ میں اعلان بھی آویزاں کردیا گیا تاکہ اس سال باشرع حافظ ہی درخواست لے کر آئیں، پھر قرعہ کے ذریعہ کسی باشرع امام کا انتخاب ہوبھی گیا تھا (اگر یہ دونوں باتیں واقع کے مطابق ہیں) تو متولی مسجد کا اس کے خلاف کرنا اور کسی خلاف شرع حافظ کو امامت کے لیے کھڑا کردینا اصول وعرف کے بھی خلاف اور بددیانتی ہے نیز حکم شریعت کے خلاف عمل کا ارتکاب ہے جس سے تمام نمازیوں کی نماز مکروہ ہوگی جس کا سارا وبال صدر کے کندھے پر ہوگا اور آئندہ کے لیے اس رسم بد کے جاری ہوجانے سے ہمیشہ گناہ اس کے سر پر پڑتا رہے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات