عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 163

ہم جماعت کے ساتھ قیام میں سورہٴ فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے جب کہ یہ فرض ہے اور حدیث سے ثابت ہے؟

Published on: Apr 25, 2016

جواب # 163

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 385/ج=385/ج)

امام کے پیچھے مقتدی پر سورہٴ فاتحہ فرض او رحدیث سے ثابت کہنا صحیح نہیں، پورے ذخیرہٴ احادیث میں کوئی ایک بھی ایسی صحیح اور صریح روایت نہیں ہے جس میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورہٴ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو بلکہ قرآن کریم اور احادیث میں صاف اور صریح طور پر اس سے منع کیا گیا ہے: وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ وَاَنصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ. (سورہٴ اعراف، آیت: ۲۰۴) اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم (1/174) صحیح ابن عوانہ وغیرہ میں او رحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنن نسائی (1/146) وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اسی لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تو تم خاموش رہو، اور کتاب القراءة للبیہقی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : إذا قرأ الإمام فأنصتوا؛ کہ امام جب قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مقتدی کے ذمہ کسی بھی سورة کی قراء ت نہیں ہے بلکہ امام کا پڑھنا مقتدی کا پڑھنا ہے۔ اور کتاب القراءة للبیہقی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل صلاة لا یقرأ فیہا بأم الکتاب فہي خداج إلا صلاةً خلف الإمام؛ یعنی ہر وہ نماز کہ جس میں سورہٴ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے سوائے اس نماز کے جو امام کے پیچھے پڑھی جائے۔ معلوم ہوا کہ مقتدی کے ذمہ فاتحہ نہیں ہے۔ (تفصیل کے لیے امام کے پیچھے مقتدی کی قراء ت کا حکم، از مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم، استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند دیکھیں)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات