عبادات - صلاة (نماز)

Bangaldesh

سوال # 161784

برائے دار الافتاء مادر علمی دار العلوم دیوبند، الھند موضوع : سحری کی آخری وقت معین ہونے کے بارے میں اختلاف کا حل۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرح متین ذیل مسئلہ کے بارے میں بنگلادیش کے محافظہ سلٹم کے شھری علاقہ حبی گنج میں سحری کی آخری وقت معین کرنے کے بارے میں اختلاف پیش آیا۔ صورت مسئلہ یہ ہے : حکومت بنگلادیش کی اسلامک فاونڈیشن (Islamic Foundation Bangladesh) کی طرف سے معین کردہ وقت کے اعتبار سے مذکورہ علاقہ کی تاریخ 17 May 2018 کی سحری کی آخری وقت 3.41 am ہیں۔ اس معین کردہ وقت کے ساتھ دیگر دار الافتاء کے فتوی بھی متفق ہے ان میں سے مشہور دینی درسگاہ ”جامعہ قاسم العلوم درگاہ حضرت شاہ جلال  سلہٹ“ بھی شامل ہے لیکن اس حبی گنج شہر کی ایک مفتی صاحب نے مذکورہ وقت کے بالکل خلاف ایک وقت تعین کیا ہے ۔ ان کی معین کردہ وقت میں مذکورہ تاریخ کی سحری کی آخری وقت 3.55 am ہیں۔ اور مفتی صاحب یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ انکی معین کردہ یہ وقت احسن الفتاویٰ کے اصول کے مطابق ہیں۔ رمضان کی باقی دینوں کی سحری کی آخری وقت معین ہونے کے بارے میں اسلامک فاونڈیشن اور دیگر دار الافتاء کی معین کردہ وقت کے ساتھ اس مفتی صاحب کا معین کردہ وقت میں ۱۵/۱۴ منٹ کا فاصلہ ہے ۔ اس مفتی صاحب کے بارے میں جامعہ قاسم العلوم درگاہ سلھٹ کے دار الافتاء کی طرف سے فتوی ہیں کہ مفتی صاحب کا معین کردہ آخری وقت میں سحری کہانے سے روزہ صحیح نہیں ہوگا۔ اور مفتی صاحب کا احسن الفتاویٰ کے یہ دعوی کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس بارے میں ہمارے جاننا ہے کہ مفتی صاحب کے معین کردہ وقت صحیح یا اسلامک فاونڈیشن اور دیگر دار الافتاء کے فتوی کی معین کردہ وقت صحیح؟
اس مسئلہ میں ہم کو ذہین نشین فرماکر شکریہ ادا کرنے کا موقعہ مرحمت فرمائیں۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 161784

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:977-848/N=9/1439



 حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی(صاحب احسن الفتاوی)کی تحقیق یہ ہے کہ صبح صادق ۱۵/ ڈگری پر ہوتی ہے، ۱۸/ ڈگری پر نہیں؛ لیکن اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک قدیم وجدید فلکیات اور کثیر مشاہدات کی روشنی میں یہ قول مرجوح ہے اورصحیح یہ ہے کہ صبح صادق ۱۸/ ڈگری پر ہوتی ہے؛ اس لیے صاحب احسن الفتاوی نے ۱۸/ ڈگری کے حساب پر تیار کی جانے والی قدیم وجدید جنتریوں کی جو تغلیط وتردید فرمائی ہے اور ان جنتریوں میں مذکور صبح صادق کے اوقات کو صبح کاذب پر محمول کیا ہے، یہ صحیح نہیں ہے ؛البتہ چند سالوں سے ۱۸/ ڈگری کے حساب پر ہندوستان میں جو جدید جنتریاں تیار کی جارہی ہیں، ان میں اور قدیم جنتریوں میں کچھ منٹ کا فرق ہے ، روزہ نماز میں اس کا لحاظ رکھنا بہتر ہے، یعنی: قدیم اور جدید جنتریوں میں جتنے منٹ کا فرق ہو ، اس کے حساب سے ختم سحر اور اذان فجر میں آٹھ دس منٹ کا وقفہ رکھنا چاہیے، چند سالوں سے دار العلوم دیوبند سے شائع ہونے والے نقشہ اوقات سحر وافطار میں بھی ختم سحر کا وقت قدیم جنتری کے حساب سے رکھا گیا ہے اور اذان فجر کا وقت اس سے دس منٹ بعد؛ تاکہ روزہ بلا شک شبہ درست ہوجائے اور اذان بھی یقینی طور پر فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات