عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 161720

قصر کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ اگر میں 100کلو میٹر کے سفر پر جارہاہوں اور اسٹیشن پر عصر کا وقت ہوگیا تو مجھے چار رکعات پڑھنی ہیں یا دو رکعت ؟کیا سفر کی نیت کرلینے سے گھر سے ہی قصر کا وقت شروع ہوجائے گا؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Sep 20, 2018

جواب # 161720

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1276-1115/N=1/1440



اگر آدمی اپنے وطن اصلی یا وطن اقامت سے سفر شرعی کی مسافت کے ارادے سے روانہ ہو تو وہ مسافر اس وقت ہوتا ہے جب وہ آبادی سے باہر نکل جائے، پس صورت مسئولہ میں اگر اسٹیشن آبادی میں داخل ہے اور اسٹیشن پر عصر کا وقت ہوگیا تو آپ کو مکمل ۴/ رکعتیں پڑھنی ہوں گی، صرف دو رکعتیں نہیں؛ کیوں کہ ابھی آپ شرعاً مسافر نہیں ہوئے۔



من خرج من عمارة موضع إقامتہ قاصداً مسیرة ثلاثة أیام ولیالیھا ……صلی الفرض الرباعي رکعتین …حتی یدخل موضع مقامہ أو ینوي الخ (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۵۹۹- ۶۰۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”من خرج من عمارة موضع إقامتہ“: أراد بالعمارة ما یشمل بیوت الأخبیة؛ لأن بھا عمارة موضعھا (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات