عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 161587

اگر مسافر مکمل نماز پڑھے تو قبول ہوگی یا نہ ہوگی ؟

Published on: May 30, 2018

جواب # 161587

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:957-842/N=9/1439



احناف کے نزدیک مسافر پر چار رکعت والی نمازوں میں حسب شرائط قصر واجب ہے، محض جائز یا رخصت نہیں ہے؛ اس لیے مسافر کے لیے چار رکعت والی نمازوں میں اتمام کرنا درست نہیں۔ اور اگر کسی مسافر نے اتمام کرلیا اور اس نے دو رکعت پر جان بوجھ کر یا بھول کر قعدہ نہیں کیا تو اس کا فرض سرے سے ادا نہ ہوگا؛ کیوں کہ مسافر کے حق میں دو رکعت پر قعدہ فرض ہوتا ہے۔ اور اگر کسی مسافر نے دو رکعت پر قعدہ کیا اور جان بوجھ کر اس نے مزید دو رکعت ملائیں تو فرض تو ذمہ سے ساقط ہوجائے گا؛ البتہ نماز ناقص ادا ہوگی۔



فإذا أتم الرباعیة والحال أنہ قعد القعود الأول قدر التشھد صحت صلاتہ لوجود الفرض في محلہ وھو الجلوس علی الرکعتین وتصیر الأخریان نافلة لہ مع الکراھة لتأخیر الواجب وھو السلام عن محلہ إن کان عامداً ……وإلا أي: وإن لم یکن قد جلس قدر التشھد علی رأس الرکعتین الأولیین فلا تصح صلاتہ لترکہ فرض الجلوس في محلہ واختلاط النفل بالفرض قبل کمالہ (مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ص: ۴۲۵، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، قولہ: ”لتأخیر الواجب“:وترک واجب القصر وترک افتتاح النفل وخلطہ بالفرد، وکل ذلک لا یجوز ، أفادہ السید عن الدر (حاشیة الطحاوي علی المراقي)، ومثلہ فی الدر والرد (کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۶۰۹، ۶۱۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند) أیضاً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات