عبادات - صلاة (نماز)

india

سوال # 161458

کیا فرض نماز میں امام السلام علیکم کی جگہ سلام علیکم کہہ کر سلام پھیر سکتا ہے؟ اور اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام علیکم کہے تو کیا یہ صحیح ہے؟ ہمارے یہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف السلام علیکم کہنا صحیح ہے سلام علیکم کہنا غلط ہے۔
براہ کرم، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

Published on: May 13, 2018

جواب # 161458

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1007-933/M=8/1439



نماز میں سلام پھیرتے وقت ”السلام علیکم روحمة اللہ“ کہنا سنت ہے بغیر الف لام کے صر ف سلام علیکم کہنا اگرچہ کافی ہو جائے گا اور وہ نماز سے نکل جائے گا لیکن اس طرح کہنا خلاف سنت ہے اسی طرح ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی سے ملے تو اس وقت بھی یہ کہے السلام علیکم رحمة وبرکاتہ ۔ درمختار میں ہے: قائلاً السلام علیکم ورحمة اللہ ہو السنة اور شامی میں ہے: قولہ ہو السنة قال فی البحر: وہو علی وجہ الاکمل أن یقول: السلام علیکم ورحمة اللہ مرتین فإن قال: السلام علیکم أو السلام أو سلام علیکم أو علیکم السلام أجزاہ وکان تارکاً للسنة ۔ (شامی اشرفی: ۲/۲۱۳) اور حدیث میں ہے: إذا لقی الرجل أخاہ المسلم فلیقل: السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ (ترمذی شریف)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات