عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 158024

حضرت، میرا سوال ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت میں دوسری رکعات میں شریک ہوتا ہے اور آخر میں امام کے سلام سے پہلے قعدہ میں وہ درود شریف بھی پڑھ لیتا ہے اور دعائے ماثورہ بھی، تو کیا جب وہ اپنی باقی رکعات پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوگا تو آخر میں سجدہٴ سہو کرے گا یا نہیں؟ میں نے سنا ہے کہ جب مقتدی جماعت میں کوئی غلطی کرتا ہے تو اس پر سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔

Published on: Jan 14, 2018

جواب # 158024

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:396-333/sd=4/1439



 مقتدی سے امام کے پیچھے کوئی موجب سجدہ سہوعمل ہوجائے ، تو اس پر سجد سہو واجب نہیں ہوتا۔ قال فی مجمع الأنہر (۱: ۲۲۲ط دارالکتب العلمیة بیروت): لا بسہوہ أی: لا یلزم سجود السہو بسہو المقتدی لا علیہ ولا علی إمامہ اھ۔قال الحصکفی :لا بسہوہ- أی: بسہو المقتدی- أصلا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السہو ۲: ۵۴۶، ط: مکتبہ زکریا دیوبند) سہو الموتم لا یوجب السجدة (عالمگیری: ۱۲۸/۱) اس لیے صورت مسئولہ میں بھی مسبوق مقتدی پر امام کے پیچھے سہواً درود شریف اور دعائے ماثور پڑھ لینے سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات