عبادات - صلاة (نماز)

pakistan

سوال # 157686

حضرت، میری بیوی کو لیوکوریا (leukoria) کا مسئلہ ہے، تو وہ نماز سے پہلے صاف کر کے پھر نماز پڑھتی ہے اگر نماز کے بیچ میں اسے آجائے لیکوریا تو کیا اس سے نماز ٹوٹ جائے گی؟
برائے کرم اس معاملے میں تفصیل سے رہنمائی کریں۔

Published on: Jan 14, 2018

جواب # 157686

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:476-50T/L=4/1439



 لیکوریا اگر کبھی کبھار آجائے تو اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اور جس جگہ کپڑے پر وہ لگ جائے اسے ناپاک قرار دیا جاتا ہے ،اگر دورانِ نماز آجائے تو نماز توڑ کروضو کرکے اور مقامِ نجس کو دھوکر دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہوگا،اور اگر اس مرض کی اتنی کثرت ہوجائے کہ کسی نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جائے کہ فرض نماز بھی پڑھنے کا موقع نہ مل پائے تو پھر یہ عورت معذور کے حکم میں ہوجاتی ہے اب اس کے لئے ایک نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ وضو کافی ہوگا، سفیدی نکلنے سے باربار اسے وضو کرنا نہ پڑے گا،اور ایسی معذور عورت کے حق میں یہ سفیدی ناقضِ وضو نہ سمجھی جائے گی، اور یہ حکم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک کہ ہر نماز میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پایا جاتا رہے ۔ وصاحب عذر ومن بہ سلسل بول لا یمکنہ إمساکہ أو استطلاق بطن أوانفلات ریح أو استحاضة إن استوعب عذرہ تمام وقت صلاة مفروضة بأن لایجد فی جمیع وقتھا زمناً یتوضأ ویصلی فیہ خالیاً عن الحدث إلیٰ قولہ، وحکمہ الوضوء لکل فرض۔ (درمختار مع الشامی ۵۰۴/۱زکریا) ودم استحاضة کرعاف دائم لا یمنع صوماً وصلوٰةً۔ (التنویر مع الدر علی الرد ، ۴۹۵/۱زکریا)تتوضأ المستحاضة ومن بہ عذر کسلسل البول أو استطلاق بطن وانفلات ریح ورعاف وجرح لا یرقأ لوقت کل فرض، ویصلون بہ ما شاؤا من الفرائض والنوافل، ویبطل وضوء المعذورین بخروج الوقت۔ (مراقی الفلاح / باب الحیض والنفاس والاستحاضة ۱۴۸)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات