عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 157137

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حامد کلکتہ کا رہنے والا ہے اور یو پی کے مدرسہ میں مدرس ہے ،مدرسہ کی طرف سے اہل وعیال کے لئے مکان ملا ہوا ہے جس میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے ، گاہ بہ گاہ مختلف مقاصد سے شرعی سفر پر جاتا رہتا ہے ۔دریافت طلب یہ امر ہے کہ حامد جب شرعی سفر سے لوٹ کر اپنے مدرسہ پہونچے گا تو آیا وہ مدرسہ پہونچتے ہی مقیم ہو جائے گا؟ یا مقیم ہونے کے لئے کم ازکم پندرہ دن اسے قیام کی نیت کرنی پڑے گی؟ بالفاظ دیگر حامد کے لئے مدرسہ کی یہ جگہ شرعا وطن اصلی کی حیثیت رکھتی ہے یا وطن اقامت کی یا کسی اور وطن کی اور یہ کہ اس کی یہ وطنیت وقتی اسفار سے باطل ہو جائے گی یا باطل نہیں ہوگی؟یا صرف اس وقت باطل ہوگی جب کہ وہ ترک سکونت کی وجہ سے مستقلا اس جگہ کو چھوڑ کر چلا جائے ساتھ ساتھ یہ بھی دریافت طلب ہے کہ اس سلسلہ میں حامد کے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے اور بیوی بچوں کے بغیر تنہا رہنے کی صورت میں حکم ایک ہی طرح کا ہوگا یا مختلف حکم ہوگا اور جو حکم ہوگا وہ کیا ہے ؟
برائے کرم اس استفتاء کا جواب عبارت فقہیہ کی روشنی میں محقق و مدلل تحریر فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں ... جزاکم اللہ تعالی خیرا.. بینوا توجروا

Published on: Dec 27, 2017

جواب # 157137

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:353-298/N=4/1439



 جس جگہ آدمی محض ملازمت کی وجہ سے قیام پذیر ہو، وہاں اس کی مستقل قیام اور رہائش کی نیت نہ ہو تو وہ وہ جگہ ملازم کے لیے وطن اصلی نہیں ہوگی خواہ وہ شخص وہاں معہ اہل وعیال مقیم ہو یا اہل وعیال کے بغیر تنہا مقیم ہو؛ البتہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی صورت میں وہ وطن اقامت ہوگی اور وطن اقامت مطلق سفر شرعی سے باطل ہوجاتا ہے خواہ اس جگہ دوبارہ واپسی کا ارادہ ہو یا نہ ہو، نیز معہ جملہ سازو وسامان سفر کیا جائے یا کچھ سامان کے ساتھ یا تنہا بغیر سامان کے سفر کیا جائے، بہر صورت مطلق سفر شرعی سے وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے، راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے اور کتب فقہ کے متون میں ایسا ہی ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں حامد جب بھی جائے ملازمت سے سفر شرعی پر جائے گا تو اس کا وطن اقامت باطل ہوجائے گا اور آئندہ اگرپندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے جائے ملازمت پر آتا ہے تو وہ مقیم ہوگا ورنہ مسافرر ہی رہے گا۔اکابر علمائے دیوبند کا یہی مسلک اور عمل ہے اور اصول افتا کی روشنی میں بھی یہی صحیح اور درست ہے (امداد المفتین، ص: ۳۲۱، ۳۲۲، سوال: ۲۵۱، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم کراچی، فتاوی محمودیہ ۷:۴۹۱ - ۴۹۴، سوال: ۳۵۸۸- ۳۵۹۱،مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، فتاوی رحیمیہ جدید، ۵: ۱۷۷، سوال: ۲۲۵، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، وغیرہ )۔



 الوطن الأصلي ھو موطن ولادتہ أو تأھلہ أو توطنہ ( المصدر السابق، ص:۶۱۴)، قولہ:”الوطن الأصلي“:ویسمی بالأھلي ووطن الفطرة والقرار ۔ح عن القھستاني۔…… قولہ:”أو توطنہ“:أي: عزم علی القرار فیہ وعدم الارتحال الخ (رد المحتار)، ثم الأوطان ثلاثة: وطن أصلي وھو وطن الإنسان في بلدتہ أو بلدة أخری اتخذھا داراً وتوطن بھا مع أھلہ وولدہ ولیس من قصدہ الارتحال عنھا بل التعیش بھا ،……فالوطن الأصلي ینتقض بمثلہ لا غیر، وھو أن یتوطن الإنسان في بلدة أخری وینقل الأھل إلیہا من بلدتہ فیخرج الأول من أن یکون وطناً أصلیاً لہ حتی لو دخل فیہ مسافراً لا تصیر صلاتہ أربعاً (بدائع الصنائع۱: ۴۹۷، ۴۹۸، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، وھذا الوطن - الوطن الأصلي- یبطل بمثلہ لا غیر، وھو أن یتوطن في بلدة أخری وینقل الأھل إلیھا فیخرج الأول من أن یکون وطناً أصلیاً حتی لو دخلہ مسافراً لا یتم ، قیدنا بکونہ انتقل عن الأول بأھلہ ؛لأنہ لو لم ینتقل بھم ولکنہ استحدث أھلاً في بلدة أخری فإن الأول لم یبطل ویتم فیھما ،…وفی المجتبی: نقل القولین فیما إذا نقل أھلہ ومتاعہ وبقي لہ دور وعقار ثم قال: وھذا جواب واقعة ابتلینا بھا وکثیر من المسلمین المتوطنین فی البلاد ولھم دور وعقار فی القری البعیدة منھا یصیفون بھا بأھلھم ومتاعھم فلا بد من حفظھا أنھما وطنان لہ لا یبطل أحدھما بالآخر (البحر الرائق، کتاب الصلاة، باب المسافر ۲: ۲۳۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ویبطل وطن الإقامة بمثلہ وبالوطن الأصلي وبإنشاء السفر، والأصل أن الشیء یبطل بمثلہ وبما فوقہ لا بما دونہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر ۲: ۶۱۴، ۶۱۵،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، من خرج من عمارة موضع إقامتہ قاصداً مسیرة ثلاثة أیام ولیالیھا ……صلی الفرض الرباعي رکعتین …حتی یدخل موضع مقامہ أو ینوي إقامہ نصف شھر بموضع صالح لھا فیقصر إن نوی في أقل منہ أو …بموضعین مستقلین (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۵۹۹- ۶۰۶)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات