عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 155097

کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام ایک مسجد کے امام سے کچھ مقتدی ناراض ہیں تو اس امام کے پیچھے ان مقتدیوں کی نماز پڑھنا درست ہے ؟ اگر درست نہیں ہے تو اس معاملے میں امام کو کیا کرنا چاہیے اور مقتدیوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ جواب عطا کریں۔ جزاک اللہ

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 155097

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 36-22/N=1/1439



 (۱، ۲): کسی مسجد کے امام صاحب سے جو کچھ مقتدی ناراض ہیں تو وہ کیوں ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟ اگر ان کی ناراضگی کی کوئی شرعی وجہ نہیں ہے تو انھیں چاہیے کہ امام صاحب سے اپنی ناراضگی دور کریں ورنہ غیر شرعی ناراضگی کی وجہ سے ان کی نماز امام کے پیچھے مکروہ ہوگی۔ اور اگر ان کی ناراضگی کی کوئی شرعی وجہ ہے تو پوری تفصیل لکھ کر سوال کیا جائے۔



ولو أم قوما وھم لہ کارھون، إن الکراھة لفساد فیہ أو لأنھم أحق بالإمامة منہ کرہ لہ ذلک تحریماً لحدیث أبي داود:” لا یقبل اللہ صلاة من تقدم وھم لہ کارھون“، وإن ھو أحق لا، والکراھة علیھم (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲:۲۹۷، ۲۹۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات