عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 152796

میں اپنی پچھلی زندگی میں بہت بد دینی کی زندگی گذارتا تھا جیسا کہ میں جوا (bet) کھیلتا تھا اور نماز نہیں پڑھتا تھا اور رمضان کے مہینے میں بھی روزے مَن کے مطابق رکھتا تھا مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ روزہ توڑنے سے کیا ہوگا یا نہ رکھنے سے کیا ہوگا، بہت زیادہ بددینی تھی یہاں تک کہ میں نے کئی بار چوری بھی کی مگر مجھے کوئی بھی بات کبھی غلط نہیں لگی، نہ نماز چھوڑنے کا برا لگنا نہ روزہ چھوڑنے کا، ہاں! میں نے چوری اس لیے کرتا کہ میں جوا (bet) کھیلنے کا بہت عادی ہو چکا تھا، اسی لیے ہروقت قرض دار رہتا تھا، لیکن ایک سال سے اللہ نے مجھے قبول فرما لیا۔ میں نے تمام برے کام چھوڑ دئیے مثلاً جوا (bet) کھیلنا۔ میں جیسے جیسے اسلام میں ڈھلتا گیا گناہوں سے توبہ کرتا گیا۔ میں نے تمام گناہ یعنی کبھی روزہ نہیں توڑوں گا یا چھوڑوں گا کبھی نماز نہیں چھوڑوں گا اور کبھی چوری اور جوا (bet) نہیں کھیلوں گا۔
مجھے اپنی چھوٹی ہوئی نمازیں اور روزے کے بارے میں کیا کرنا چاہئے؟ اور چوری کا بھی کوئی حل یا کفارہ بتائیں۔ اب صرف ایک عادت باقی رہ گئی ہے کہ میں پہلے مشت زنی بہت کرتا تھا۔ میں ایک لڑکی سے پیار کرتا ہوں، میں جب مجلسوں اور جماعتوں میں جاتا ہوں تو میں اس سے دور ہو جاتا ہوں مگر کچھ ماہ بعد اس کا فون آتا ہے پھر میں اس سے باتیں کرنے لگتا ہوں۔ میں اب کبھی کبھی مشت زنی کرلیتا ہوں کیونکہ مجھے شادی کا بہت شوق ہے مگر میں گھر میں بتا نہیں پاتا۔

Published on: Jul 17, 2017

جواب # 152796

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 970-145/D=10/1438



آپ اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ کرچکے یہ اللہ کی توفیق ہے؛ لیکن شیطان اس توبہ میں بھی ڈنڈی ماررہا ہے کہ ایک گناہ یعنی مشت زنی اور دوسرا گناہ اجنبی لڑکی کی محبت اور اس سے بات چیت کرنا یہ دونوں گناہ بھی بہت سنگین ہیں آپ صدق دل سے دو رکعت نماز پڑھ کر سب گناہوں سے توبہ کرلیں اور یہ عزم کرلیں کہ اب کبھی مشت زنی نہیں کروں گا جب کبھی خیال آئے تو اپنا دھیان دوسرے کام میں لگالیں اور تنہائی سے نکل دوسرے کام میں لگ جائیں، حدیث میں اس عمل پر لعنت کی گئی ہے اور دنیوی اعتبار سے بھی اس کا نقصان بہت زیادہ ہے، کبھی آدمی شادی کے لائق نہیں رہ جاتا۔ اور اجنبی لڑکی سے بات چیت کرنا محبت اور پیار کرنا حرام ہے؛ لہٰذا اس سے بھی توبہ کرکے اس لڑکی سے بے تعلق ہوجائیں اور اسے بتادیں کہ یہ گناہ اور حرام ہے، طبیعت کتنا ہی مجبور کرے مگر آخرت کی سزا اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرکے اس سے رک جائیں۔



جن لوگوں کے پیسے چرائے ہیں تخمینہ لگاکر ان لوگوں کو کسی بھی نام سے (ہدیہ تحفہ کہہ کر) واپس کردیں اگر ان کا انتقال ہوچکا ہو تو ان کے ورثاء کو پہنچادیں۔ اور اگر جن کی چوری کی تھی وہ لاپتہ ہوگئے یعنی وہ اجنبی لوگ تھے ان کا پتہ وغیرہ معلوم نہیں تو پھر ان کی طرف سے صدقہ کردیں، پچھلے سالوں کی نماز روزے کے لیے یہ کریں کہ تخمینہ سے اندازہ لگائیں کہ کتنے سال کی نمازیں باقی ہیں، مثال کے طور آپ کے بالغ ہونے کے بعد پانچ وقت میں سے دو وقت کی نماز پڑھنے کا تخمینہ ہورہا ہے اور یہ تخمینہ شروع کے دو سال تک کا ہے تو آپ نے گویا شروع کے دو سال میں تقریباً چودہ پندرہ ماہ نمازیں نہیں پڑھیں اسی طرح ہرسال کا تخمینہ نکال کر سب فوت شدہ نمازیں جوڑ لیں کہ کتنے سال اور ماہ کی نمازیں باقی ہیں، پھر انھیں ادا کرنے کی کوشش کریں۔



ایک طریقہ تو یہ ہے کہ روزانہ ہرفرض نماز کے وقت ایک پچھلی اسی وقت کی نماز ادا کرلیا کریں اور نیت میں یہ کہیں کہ میرے ذمہ سب سے پہلی فجر کی یا ظہر کی جو نماز باقی ہے اسے ادا کررہا ہوں، ایک سال تک ایسا کریں گے تو ایک سال کی فوت شدہ نمازیں ادا ہوجائیں گی۔



دوسرا طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے خانے والی (حساب لکھنے والی) کاپی میں داہنے جانب ایک سے لے کر ۳۰تاریخ لکھ لیں اور اوپر وتر شامل کرکے چھ نمازوں کے نام لکھ لیں اور جب کوئی نماز ادا کریں تو اس کے نیچے خانہ میں ٹک لگادیں۔ اسی طرح جنوری، فروری ہرماہ کا چارٹ تیار کرلیں اور نماز ادا کرنے پر ٹک لگادیا کریں۔



اسی طرح روزوں کے بارے میں تخمینہ لگالیں کہ اب تک کتنے روزے چھوٹے ہوں گے انھیں ڈائری میں لکھ لیں پھر حسب سہولت اسے رکھتے رہیں اور ڈائری میں نوٹ کرتے رہیں۔



پچھلے دنوں میں اگر کبھی رمضان میں روزہ رکھ کر قصدا (جان بوجھ کر) توڑدیا ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر آئندہ حکم معلوم کریں اس قسم کے کتنے روزے ہوں گے جنھیں رکھ کر توڑا پھر سب ایک ہی رمضان کے تھے یا الگ الگ سالوں میں ہوئے ہیں اس کی وضاحت کرکے سوال کریں، ہمت اور ارادہ کریں ان شاء اللہ سب آسان ہوجائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات