عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 149918

کیا اپنے وطن سے دور کہیں بیس دن سے زائد ٹھہرنے پر قصر نماز پڑھنا جائز ہے؟ کیا اپنے وطن سے دور کہیں قیام کی صورت میں نماز ظہر اور عصر کواسی طرح مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کرنا جائز ہے؟

Published on: Mar 12, 2017

جواب # 149918

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 720-683/M=6/1438



(۱) اگر آپ اپنے وطن سے دور شرعی مسافت (77.25 کلو میٹر) طے کرکے گئے ہیں اور وہاں ۱۴/ دن یا اس سے کم ٹھہرنے کی نیت ہے تو آپ پر قصر ہے اور اگر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت ہے تو قصر جائز نہیں، اتمام (پوری نماز پڑھنا ) ضروری ہے۔



(۲) جمع حقیقی جائز نہیں، یہ صرف حاجی کے لیے عرفات اور مزدلفہ میں جائز ہے اس کے علاوہ کے لیے درست نہیں، جمع صوری کی گنجائش ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً ظہر کو بالکل اخیر وقت میں اور عصر کو ابتدائی وقت میں اسی طرح مغرب کو بالکل اخیر وقت میں اور عشاء کو اول وقت میں ادا کرلیں تو مجبوری میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے یہ صورةً جمع بین الصلوٰتین ہے حقیقت میں یہ دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا کی جاتی ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات