عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 1491

میر ا آپ سے سوال ہے کہ ہما رے نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا ہے کہ جب قرآن شریف پڑھا جا ئے تو خاموش رہا کر و،اسلئے ہم امام کے سا تھ نماز میں سورہ فاتحہ یا اور کو ئی سورة نہیں پڑھتے ہیں۔ ظہر اور عصر میں تو امام صاحب آواز سے نہیں پڑھتے ہیں تو اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ سورہ فاتحہ پڑھنا چاہئے یا نہیں؟

Published on: Aug 30, 2007

جواب # 1491

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  853/ج = 853/ج)


 

امام کے پیچھے سری نمازوں (ظہر اور عصر) میں بھی سورہٴ فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھنا جائز نہیں، مکروہ تحریمی ہے، في الموطا لمحمد ص:۹۶،۹۷: قال محمد: لا قراء ة خلف الإمام فیما جھر بہ ولا فیما لم یجھر، بذلک جاء ت عامة الآثار اھ وأخرج في ص:۱۰۰ منہ عن علقمة بن قیس أن عبد اللہ بن مسعود کان لا یقرأ خلف الإمام فیما یجھر بہ وفیما یخافت فیہ في الأولیین ولا في الأخیرین۔۔۔۔۔ اھ قال في الدر المختار مع الرد: ج۲ ص۲۶۶: والموٴتم لا یقرأ مطلقا ولا الفاتحة في السریة اتفاقا۔۔۔۔ فإن قرأ کرہ تحریما اھ۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات