عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 1476

(۱) مسبوق سجدہٴ سہو کا سلام پھیرنے میں امام کی اتباع کرے تو کیا مسبوق کی نماز باطل ہوجائے گی؟


(۲) کیا امام یا مسبوق کے لیے سجدہٴ سہو والا سلام قاطع صلاة ہے؟

(۳) قید بالسجود لأنہ لا یتابعہ في السلام (رد المحتار، ص۵۴۶، زکریا) میں سلام سے سجدہٴ سہو سے پہلے والا سلام مراد ہے یا بعد والا؟

Published on: Oct 31, 2007

جواب # 1476

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 655/ ن= 659/ ن


 


(۱) جی ہاں! اگر جان بوجھ کر ایسا کرے گا تو نماز باطل ہوجائے گی ثم المسبوق إنما یتابع الإمام في السہو دون السلامÂ…  وإن سلم فإن کان عامداً تفسد صلاتہ وإن کان ساھیا لا تفسد (بدائع: ۱/۴۲۲، ط زکریا دیوبند)


(۲) مسبوق نے اگر عمداً امام کے ساتھ سلام پھیرا ہے تو وہ قاطعِ صلاة ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ اور رہا امام یا منفرد کا سلام تو وہ موقوف رہے گا،اگر اس کے بعد سجدہٴ سہو کرلیا تو اس کو قاطع قرار نہیں دیا جائے گا اور اگر اس کے بعد سجدہٴ سہو نہ کیا تو وہ قاطعِ صلاة ہوگا وعند أبي حنیفة وأبي یوسف الأمر موقوف إن عاد إلی سجدتي السھو وصح عودہ إلیھما تبین أنہ لم یقطع وإن لم یعد تبین أنہ قطع (بدائع: ۱/۴۱۹، ط زکریا دیوبند)


(۳) سجدہٴ سہو سے پہلے والا سلام مراد ہے، قولہ: لأنہ لا یتابعہ في السلام أي السلام الأول (تقریراتِ رافعي: ص۱۰۱)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات