عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 147138

فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ بیشک انفرادی دعا تو جائز ہے۔ دلیل اس پر: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو ترمذی میں ہے لیکن غیر مقلدین کہتے ہیں کہ دیوبندی علماء خاص کر ”مفتی رشید لدھیانوی رحمہ اللہ اور مفتی انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اور مفتی شفی عثمانی بعد فرض نماز کے اجتماعی دعا کو بدعت ازالہ لکھتے ہیں“ غیر مقلد حوالہ دیتا ہے کہ دیوبندی بھائیوں کا جو عمل ہے فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرنا یہ عمل بدعت قبیح ہے میں نہیں کہہ رہا ہوں خود ان کے اکابر رشید احمد لدھیانوی دیوبندی کہہ رہے ہیں، رشید احمد لدھیانوی دیوبندی فرماتے ہیں ”نماز کے بعد اجتماعی دعا کا مروجہ طریقہ بلا اجماع بدعت قبیح شنیعہ ہے (احسن الفتاویٰ جلد: ۱۰، نمازوں کے بعد دعا ،صفحہ: ۲۴۸) لہٰذا دیوبندی حضرات کو اپنے اکابر کے اس فتوی پر عمل کرنا چاہئے اور اجتماعی دعا فرض نماز کے بعد ترک کرنا چاہئے جو کہ بدعت ہے، اب اپنی مسجد میں لگ بھگ ہر مسجد میں اجتماعی دعا ہوتی ہے فرض نماز کے بعد، تو کیا ان ائمہ کو پتا نہیں مسئلہ ؟ یا رواج کو ترک کرنے سے ڈرتے ہیں؟
یہ ایک غیر مقلد کا سوال ہے ۔

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 147138

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 306-243/D=4/1438



                                 



فرض نماز کے بعد دعا کرنا اور ایسی دعا کا مقبول ہونا احادیث میں وارد ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہرفرض پڑھنے والا اپنی نماز کے بعد دعا کرے اب اگر جماعت سے نماز ادا کی جارہی ہوگی تو ہرایک کے انفراداً دعا کرنے سے اجتماعی ہیئت معلوم ہوگی اس میں مضائقہ نہیں کیونکہ جماعت کی نماز پوری ہوجانے کے بعد امام کے ساتھ مقتدیوں کے اقتداء کا تعلق ختم ہوجاتا ہے، مقتدی اس بات کے پابند نہیں کہ جتنی دیر امام دعا مانگے مقتدی لوگ بھی اس کی اتباع کریں بلکہ مقتدی پہلے بھی ختم کرسکتے ہیں اور امام کے بعد تک بھی مانگ سکتے ہیں۔



(۲) اجتماع کو ضروری سمجھنا اور اس کا اہتمام والتزام کرنا بدعت ہوگا، اکابر کے فتاوی ماننے کے تقاضہ سے دعا کا ترک کرنا کہاں لازم آتا ہے، بلکہ ہرشخض انفراداً دعا کرے جس سے اجتماعی ہیئت بن جائے مضائقہ نہیں یہ نکلتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات