عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 13996



اگر کسی شخص نے پندرہ یا سولہ سال کی عمر
میں نماز شروع کی ہو تو کیا اس کو اپنی پچھلی نمازوں کی قضا کرنی ہوگی؟ اگر ہاں،
تو کس عمر کے حساب سے سات سال، گیارہ سال یا پھر جس عمر میں وہ بالغ ہوا ہو؟



Published on: Jun 18, 2009

جواب # 13996

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی: 1421=1120/ھ



 



قمری یعنی چاند کی تاریخ کے لحاظ سے پندرہ
سال عمر ہوجانے پر تو نماز پڑھنا فرض ہوہی جاتا ہے، اگر اس سے قبل احتلام ہونے لگا
تو اول مرتبہ احتلام ہونے سے لے کر پندرہ سال یا زائد عمر ہونے تک جتنی نمازیں
چھوٹ گئی ہوں سب کی قضاء واجب ہے اور قضاء میں فرضوں کے ساتھ وتروں کی قضاء بھی
واجب ہے۔ حاصل یہ کہ روزآنہ کی چھ نمازیں محسوب کرکے قضا کرنی ہیں۔ پندرہ سال کی
عمر ہونے یا احتلام سے قبل کی جو نمازیں چھوٹ گئی ہوں تو بوجہ بالغ کا حکم نہ ہونے
کے قضاء واجب نہیں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات