عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 12018



کیا
فرماتے ہیں مفتیان دین اس مسئلہ کے بارے میں جس کی وجہ سے کچھ لوگ مسجد میں انتشار
پھیلا رہے ہیں۔ کیا نماز کے بعد امام کا مقتدیوں کے ساتھ مل کر اجتماعی شکل میں
دعا کرنا بدعت ہے او رقرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟ اگر یہ بات درست
ہے تو پھر پاکستان و ہندوستان کے علمائے حق اس کام سے کیوں نہیں روکتے بلکہ وہ خود
بھی کرتے ہیں؟ کیا واقعی اجتماعتی دعا فرض نمازوں کے بعد بدعت ہے؟ اگر بدعت نہیں
تو کیا ہمارے پاس دلیل ہے؟ برائے کرم مدلل جواب دیں تاکہ آپ کے جواب کو مسجد کے
بورڈ پر لگایا جاسکے اور لوگوں کو انتشار سے بچایا جاسکے۔ امید ہے کہ آپ ہمارے
ساتھ لوگوں کو انتشار سے بچانے میں تعاون کریں گے نیز کتب حدیث کے حوالاجات بھی بھیجئے
گا اوردلیل بھی کیوں کہ اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور آپ کے جواب پر لوگوں کو ان شاء
اللہ اعتماد بھی ہوگا۔ شاہ رفیع الدین ڈربی انگلینڈ



Published on: May 17, 2009

جواب # 12018

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی:
881=108
k



 



مختلف
احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنے کی تاکید وارد ہوئی ہے اور خود
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرائض کے بعد دعا کیا کرتے تھے، کچھ احادیث درج
ذیل ہیں:



(۱) عن معاذ بن جبل رضي اللہ تعالی عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم قال لہ أوصیک یا معاذ لا تدعن دبر کل صلاة أن تقول الخ



(۲) قیل یا رسول اللہ أي الدعاء أسمع قال جوف اللیل الآخر ودبر
الصلوات المکتوبات



(۳) عن أنس رضي اللہ عنہ عن
النبي علیہ السلام قال ما من عبد یبسط کفیہ في دبر کل صلاة
اور خود حضور صلی اللہ
علیہ وسلم بھی فرض نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھاکر دعا کیا کرتے تھے، چنانچہ ملاحظہ ہو۔



۱- قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم الفجر فلما سلم انحرف ورفع یدیہ ودعا
۔



۲- قال رأیت عبد اللہ بن الزبیر رأی رجلاً
رافعاً یدیہ یدعو قبل أن یفرغ من صلاتہ فلما فرغ منھا قال لہ إن رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم لم یکن یرفع حتی یفرغ من صلاتہ



ان
احادیث سے صراحةً ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں کے بعد دعا
فرماتے تھے، اور انہی احادیث سے بطریقہٴ اشارة النص یہ بھی ثابت ہوتے کہ جب حضور
صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے تو صحابہ یقینا اس دعاء میں آپ کے ساتھ شرکت
فرماتے تھے، اس لیے کہ مقام غور ہے کہ اگر کوئی مرشد کامل کسی مجلس میں ہاتھ
اٹھاکر دعا فرمائیں تو کیا مریدین مرشد کی موافقت نہیں کریں گے، ضرور کریں گے، تو
رسول مقبول تو ہاتھ اٹھاکر دعاء فرمائیں اور حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالیٰ
عنہم اجمعین جو مجسم اطاعت تھے اور جذبہٴ اطاعت سے سرشار تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کا منھ دیکھتے رہے ہوں، اور ہاتھ اٹھاکر دعاء کرنے میں حضور کی مواقفت کی
سعادت حاصل نہ کی ہو اور یہ دعویٰ بلا دلیل نہیں ہے کہ حدیث میں ہے کہ ایک موقعہ
پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھأکر دعاء فرمائی تو حاضر باش صحابہ نے بھی
حضور کے ساتھ ساتھ ہاتھ اٹھأکر دعاء میں شرکت فرمائی، چنانچہ بخاری شریف میں ہے:
قال یحیی بن سعید سمعت
أنس بن مالک قال أتی رجل أعرابي من أھل البدو إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم
الجمعة فقال یا رسول اللہ ہلکت الماشیة ہلکت العیال ہلکت الناس فرفع رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم یدیہ یدعو ورفع الناس أیدیھم مع رسول اللہ علیہ السلام یدعون الخ
ملاحظہ فرمائیے اس حدیث
میں صراحةً ذکر ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی حضور کے ساتھ دعاء میں شرکت
فرمائی لہٰذا یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ جب نماز کے بعد حضور ہاتھ اٹھاکر دعاء
فرماتے تھے تو صحابہ بھی ضرور شرکت فرماتے تھے یہی اجتماعی دعا ہے، اور اجتماعی
دعا کے ثبوت کے لیے ان شاء اللہ یہی کافی ہے۔ (رحیمیہ:ج
۶ ص۴۳ تا ۴۷)



اس
ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ فرائض کے بعد ہاتھ اٹھأکر دعاء مانگنا حضور صلی اللہ
علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس کو بدعت کہنا درست نہیں، البتہ جب سب لوگ نماز کے بعد
ہاتھ اٹھاکر دعاء مانگیں گے تو خود بخود اجتماعی شکل پیدا ہوجائے گی جس میں کوئی
حرج نہیں، البتہ نماز کے بعد دعاء مانگنے کے لازم سمجھنا اور نہ مانگنے والے پر
طعن وتشنیع کرنا درست نہیں۔ اور اجتماعی شکل میں دعاء کرنے کی اگر کوئی خاص شکل آپ
کے یہاں رائج ہو تو سوال میں اس کو واضح کریں نیز دعا سراً کرنا افضل ہے، بعض
کلمات بھی کبھی بطور تعلیم کے جہراً کہنے کی گنجائش ہے، لیکن مستقل امام ومقتدیوں
کا ملکر جہراً پابندی کے ساتھ دعا کرنا درست نہیں، کہ اس میں پابندی اورالتزام ہے،
اور دیگر نمازی بالخصوص مسبوقین کی نماز میں خلل کا باعث ہے۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات