عبادات - صلاة (نماز)

Bahrain

سوال # 11962

نماز سے متعلق کچھ سوال ہیں۔ کیا ہم فرض، سنت یا نفل کی ایک رکعت میں متعدد سورتیں(جتنی آتی ہوں مثال کے طور پر سورہ عصر سے سورہ ناس تک) پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں تو کیا تراویح میں اس کی گنجائش ہے؟


(۲) کیا قضائے عمری کا درج ذیل مختصر طریقہ ٹھیک ہے: پہلی دو رکعت میں ثنا نہ پڑھیں سورہ فاتحہ کے ساتھ سوہ ملا کر رکوع میں ایک بار سبحان ربی العظیم، اور اسی طرح سجدہ میں تین کے بجائے ایک باہر کہہ لیں باقی دو رکعت (فرض میں) سورہ فاتحہ کی بجائے صرف تین بار سبحان اللہ کہہ لیں اور آخر میں تشہد کے بعد کوئی سا چھوٹا درود پاک پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ (فجر کی دو رکعت پہلی دو رکعت جو لکھی ہے ویسے پڑھ کر سلام پھیرنا ہے۔ اور وتر میں دعائے قنوت کی جگہ تین بار رب اغفرلی کہہ لیں۔ یہ ایک بریلوی مفتی صاحب بتاتے ہیں تو کیا ٹھیک ہے؟ بہت سے لوگ ایسے اپنی قضائے عمری ادا کررہے ہیں۔


(۳) امام کے ساتھ شامل ہونے پر جو رکعت نکل گئی ان کے لیے امام کے سلام پھیرنے پر ہمیں کھڑا ہونا ہوتا ہے لیکن تشہد کے بعد رکنا ہوتا ہے لیکن اگر کوئی اخیر تک پورا پڑھ لے (درود پاک نیز دعائیں) صرف سلام نہ پھیرے تو کیا نماز دہرانی ہوگی؟


(۴)یہاں اکثر حنفی بھائی ایک وتر پڑھتے ہیں منع کرنے پر نہیں مانتے تو کیا ان پر ان وتر کی قضا ہے؟


(۵) الصلوة خیر من النوم کے جواب میں کیا صدقت و بررت وبالخیر نطقت،کہنا درست ہے؟


(۶) صحبت کے فوراً بعد ماہواری شروع ہو جائے تو کیا غسل کرنا ہوگا؟ میرے سوال زیادہ ہیں لیکن کیا کروں آپ جواب بہت ہی دیر سے دیتے ہیں تو اکٹھے کرڈالے۔

Published on: Apr 23, 2009

جواب # 11962

بسم الله الرحمن الرحيم

فتویٰ: 759=634/د


 


(۱) پڑھ سکتے ہیں، البتہ فرض کی ایک رکعت میں سورہٴ فاتحہ کے علاوہ ایک سورت پڑھنا بہت رہے، تاکہ دوسری رکعت میں دوسری سورت پڑھ سکیں ورنہ ایک ہی سورت کا تکرار ہوجائے گا، البتہ نفل وتراویح میں حرج نہیں ہے۔


(۲) درست ہے، فرض کی قضا سے بری الذمہ ہوجائے گا، لیکن ادائیگی سنت کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے ثواب میں بہت کمی رہ جائے گی، اس لیے کسی خاص مجبوری میں کبھی مذکورہ طریقہ اختیار کرلے تو حرج نہیں لیکن اسی کی عادت بنانا اچھا نہیں ہے۔


(۳) دُہرانی نہیں ھوگی۔


(۴) قضا کرنی ہوگی۔


(۵) درست ہے۔ قال في المراقي وفي أذان الفجر قال المجیب صدقت وبررت قال الطحطاوي وقیل یقول صدقت وبالحق نطقت کما في مجمہ الأنہر ولا خفاء في حسن الجمع (مراقي الفلاح: ۲۰۴)


(۶) غسل فرض کی ادائیگی فوراً واجب نہیں ہے، اس لیے دونوں کا غسل ایک ساتھ کرنے کی گنجائش ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات