عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 10454


ان دنوں میں شارجہ میں نوکری کے سلسلہ میں رہتا ہوں۔ یہاں پر امام مالک / امام احمد کی فقہ ہے اور میں حنفی ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہماری فقہ کے مطابق ظہر کی نماز کا وقت چار بجے شام تک ہے اور عصر کی نماز کا وقت چار بجے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہاں (وہابی) فقہ کے مطابق عصر کی نماز کا وقت ساڑھے تین بجے شروع ہوتا ہے۔میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ میں کس وقت عصر کی نما ز پڑھوں؟اگر چار بجے کے بعد پڑھوں تو مجھے اکیلے نماز پڑھنی ہوگی نہ کہ جماعت کے ساتھ۔ اور اگر میں جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھوں تو مجھے تین بج کر پچاس منٹ پر پڑھنی ہوگی جب اذان کے بعد جماعت شروع ہوتی ہے۔یہاں پر عصر کی اذان ساڑھے تین بجے دی جاتی ہے۔ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں اگر میں عصر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھوں تو کیا میری نماز قابل قبول ہوگی یا مجھے چار بجے کے عصر کے وقت کا انتظار کرنا ہوگا اور اکیلے نمازپڑھنی چاہیے؟ لیکن میں ہمیشہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہتاہوں۔ کیوں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ کیوں کہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں مطمئن ہوتا ہوں۔اور جب میں اکیلے نمازپڑھتا ہوں تو میرے ذہن میں بہت سارے خیالات آتے ہیں اور میں صحیح طریقہ میں نماز میں دھیا ن نہیں دے سکتا ہوں۔

Published on: Feb 4, 2009

جواب # 10454

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 138=161/ د


 


اگر آپ جماعت کے ساتھ تین بج کر پچاس منٹ پر نماز عصر پڑھیں تو آپ کی نماز ہوجائے گی، لیکن بہتر یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نہ پڑھ کر اکیلے تنہا پڑھیں، کفایت المفتی، فتاویٰ محمودیہ اور فتاویٰ شامی میں تفصیل مذکور ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات