عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 1043

قرآن میں سورہٴ نساء آیت ۱۰۱ میں ہے کہ سفر کے دوران اگر دشمن کے نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو تو نماز کو مختصر کرسکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب سفر میں دشمن کا کوئی خوف نہیں ہے تو ہم نماز کیوں قصر کرتے ہیں؟

Published on: Jul 16, 2007

جواب # 1043

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  707/ج = 707/ج)


 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور فعل سے بیان فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں مذکورہ قید پہلے قید احترازی تھی پھر قید اتفاقی ہوگئی؛ اس لیے سفر شرعی میں کافروں (دشمنوں) کے پریشان کرنے اور اذیت پہنچانے کا اندیشہ ہو یا نہ ہو، بہرصورت نماز میں قصر کرنا ہے۔ عن یعلی بن أمیة قال: قلت لعمربن الخطاب: إنما قال اللہ تعالیٰ: اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلاَةِ اِنْ خِفْتُمْ اَیْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فقد أمن الناس قال عمر: عجبت مما عجبت منہ فسألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: صدقة تصدّق اللہ بھا علیکم فأقبلوا صدقتہ رواہ مسلم (مشکوة شریف: ص۱۱۸) وعن حارثة بن وھب الخزاعي قال: صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ونحن أکثر ما کنا قط وآمنہ بمنی رکعتیں متفق علیہ (حوالہ بالا)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات