عبادات - صلاة (نماز)

Saudi Arabia

سوال # 10308

زید کی ظہر کی نماز چھوٹ گئی اب وہ عصر کی نماز پڑھنے گیا لیکن ابھی عصر کی نماز ہوئی نہیں تھی تو کیا وہ ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے جب کہ ظہر کا وقت ختم ہوگیا ہے عصر کا وقت شروع ہوچکا ہے؟ زید عصر کی نماز پڑھنے گیا اور ابھی جماعت ہونے میں وقت تھا تو وہ قرآن کی تلاوت کرنے لگا اور سجدہ تلاوت آگئی تو کیا وہ اس وقت سجدہ کرسکتا ہے یا عصر کی نماز کے بعد کر سکتا ہے؟ ایسے ہی مغرب کی نماز کے وقت میں ہو تو کیا کرے؟ اگر عصر یا ظہر یا عشاء کی فرض نماز سے پہلے جو چار سنت ہے وہ چھوٹ جائے تو کیا اس کو ان فرض نمازوں کے بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ فرض نماز اورسنت نماز کی نیت کیسے کی جائے گی ان کو الفاظ میں لکھ کر بتلائیں مہربانی ہوگی ۔

Published on: Feb 3, 2009

جواب # 10308

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 212=195/ ب


 


ظہر نماز کی قضا عصر کی قرض نماز سے پہلے اور اصفرار شمس سے پہلے کی جاسکتی ہے، اگر دورانِ تلاوت سجدہ آگیا تو وہ اسی وقت کرسکتا ہے او رعصر کے بعد بھی کرسکتا ہے، لیکن جو سجدہٴ تلاوت کسی دوسرے وقت میں واجب ہوا ہو اس کو اصفرار کے وقت نہیں کیا جاسکتا، یہی حکم مغرب کا ہے۔ ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت موٴکدہ ہے، اگر یہ چھوٹ جائے تو بعد ظہر اسے ضرور پڑھ لینا چاہیے، اگر عصر سے پہلے کی سنت چھوٹ گئی جو کہ غیر موٴکدہ ہے، اس کو عصر کے بعد نہیں پڑھنا چاہیے،اور عشاء سے پہلے جو سنت غیرموٴکدہ ہے، اسے عشاء کے بعد اختیار ہے چاہے پڑھے یا نہ پڑھے، پڑھنا بہتر ہے۔ نماز کی نیت یہ ہے کہ دل میں یہ بات پکی کرلے کہ فلاں وقت کی فرض نماز اس امام کے پیچھے یا فلاں وقت کی سنت پڑھ رہا ہوں، اتنا کہہ لینے سے نیت ہوگئی۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات