معاشرت - اخلاق و آداب

Qatar

سوال # 69736

میں اپنی آٹھ سال کی عمر سے ان کی پٹائی برداشت کررہی ہوں اور مختف مواقع پر ان کا غصہ برداشت کررہی ہوں، میں والد صاحب سے بہت محبت کرتی تھی، مگر ان کی پٹائی کرنے وے میرا دل ٹوٹ گیا، میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ ٹھیک ہے ، وہ میرے والد ہیں۔والد صاحب جن باتوں پر میری پٹائی کرتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ، جیسے کہ میں باتھ روم سے باہر آتی ، تو میرے سرپر دوپٹہ نہیں ہوتا، کیوں کہ میں باتھ روم میں جانے سے پہلے اس اتار دیتی ہوں، یا جیسے کہ میں اپنا ہاتھ دھوتی ہوں اور مجھے والد صاحب کی موجودی گی کا پتا نہیں ہوتا، تو سرپہ اسکارف نہ ہونے کی وجہ سے وہ میری پٹائی کردیتے ہیں، میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی مگر وہ میری سنتے ہی نہیں،والد صاحب کی وجہ سے میں گیارہ سال کی عمر میں ڈپریشن کی شکار ہوگئی ، اب میں چودہ سال کی ہوں، اب جب وہ پٹائی کرتے ہںا جسم پر چوٹ لگتی ہے دماغ میں نہیں،دماغ میں چوٹ نہ لگنے کی یہ وجہ یہ ہے کہ میں اب میں ان کا خیال نہیں رکھتی، مجھے ان سے دل سے بہت زیادہ نفرت ہوگیل ہے، مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ یہ غلط ہے، مجھے ان کا چہرہ دیکھنا پسند نہیں، اور نہ میں ان سے بات کرتی ہوں،جب وہ مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں ان کو نظر انداز کردیتی ہوں،میں چاہوں گی کہ میں کبھی ان کو نہ دیکھوں اورجب میں کالج جاتی ہوں تو ان کو دوبارہ نہ دیکھنے کا پلان بناتی ہوں۔ کیا میرے لیے ان سے نفرت کرنا غلط ہے؟ براہ کرم، مجھے مشورہ دیں کہ میں کیا کروں؟ والدین سے نفرت کرنا بہت غلط ہے،لیکن جب چاہیں وہ اپنے بچوں کی پٹائیں کریں یہ بھی درست نہیں ہے۔

Published on: Nov 7, 2016

جواب # 69736

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 040-058/M=2/1438

والدین سے نفرت کرنا بہت برا ہے، شریعت اسلام میں ماں باپ کا درجہ بہت بلند ہے قرآن میں ہے کہ : ”تم والدین کو اُف بھی نہ کہو اور ان کو نہ جھڑکو“ اور حدیث میں فرمایا گیا کہ باپ کی خوشی میں اللہ کی خوشی ہے اور باپ کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ: ”باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا درواوزہ ہے تم چاہے اس کی حفاظت کرلو یا اس کو ضائع کردو“ ماں باپ کو محبت و عظمت کی نظر سے دیکھنا بھی کار ثواب ہے اس لیے آپ نے اپنے والد کے تئیں اپنے دل میں جو نفرت بٹھائی ہے اس کو نکال دیں، ان کو محبت کی نظر سے دیکھیں، جس کام سے ان کو غصہ آتا ہو اس سے بچیں، جائز اور مباح امور میں ان کی اطاعت کو لازم سمجھیں، سر پر دوپٹہ یا اسکارف نہ ہونے کی بنا پر والد صاحب پٹائی کردیتے ہیں تو آپ سر پر دوپٹہ وغیرہ رکھنے کا اہتمام کریں یہ صحیح ہے کہ والد صاحب کو معمولی معمولی باتوں پر پٹائی نہیں کرنی چاہئے بسا اوقات اس کا اولاد پر منفی اثر پڑتا ہے لیکن جب آپ کو والد صاحب کا مزاج معلوم ہے تو ان کے مزاج کے خلاف کرکے اپنے لیے پریشانی نہ مول لیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات