معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 63178

ہمارے شہر میں ایک چوراہا ہے ۔ چار سڑکیں گزرتی ہیں تو شہر کے ایم۔پی۔اے نے وہاں ایک مینار بنوا کر اس کے اوپر ایلومینیم دھات سے اللہ لکھوا کے لگا دیا جو چوک کے چاروں طرف سے نظر آتا تھا اور اللہ کا نام دیکھ کر بہت سرور آتا تھا۔ کچھ دن گزرے تو ایک مخالف جماعت کے لوگوں نے اس مینار پر چڑھ کر اللہ کے نام پر بوری اور پلاسٹک کے تھیلے لپیٹ دیے کہ دھوپ سے سایہ بنتا ہے اور نیچے گاڑیاں اور لوگ گزرتے ہیں تو بے حرمتی ہوتی ہے ۔ میں حکومت کا ذمہ دار ہوں اب آپ بتائیں کہ کیا سایہ سے بے حرمتی ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ہوتی ہے تو رہنماء فرمائیں تاکہ ہم اصلاح کریں ۔ اگر نہیں ہوتی تو بتائیں تاکہ ھم اللہ کے نام پر لگے کپڑے اور تھیلے ہٹا دیں۔ آپ کے جواب کا انتظار ہے ۔

Published on: Jan 28, 2016

جواب # 63178

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 366-310/Sn=4/1437-U

مینار کے اوپر ایلمونیم دھات سے جو ”اللہ لکھا ہے دھوپ ہونے پر اگر اس کا سایہ زمین پر اس طرح پڑتا ہے کہ اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے تو اس سایہ کو روندنا اس پر چلنا خلاف ادب ہوگا، یسی صورت میں اس کی اصلاح کردی جائے کہ اس طرح سایہ نہ بنے، اگر سایہ کی نوعیت اس طرح کی نہ ہو؛ بلکہ زمین پر صرف مینار کا سایہ پڑتا ہے لفظ ”اللہ“ کی شناخت نہیں ہوتی تو ”پھر ”اللہ“ کو باقی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مینار کے سایہ پر گر لوگ چلیں تو اسے لفظ ”اللہ“ کی بے ادبی نہ کہا جائے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات