معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 2314

میرے شوہر کے والدین مجھ سے نااتفاقی رکھتے ہیں۔ میں نے اپنی جانب سے ان کو ہر طرح خوش رکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ کسی طرح راضی نہیں ہیں ۔ ایک بار انہوں نے میرے شوہرکے کچھ ایسے راز مجھ پر کھولے کہ ہمار ی طلاق کی نوبت آگئی تھی۔ ہم نے احتیاطا اپنا نکاح دہرایا اور کسی سے نہ کبھی ذکر کیا اورنہ ہی حسن سلوک میں کوئی کمی کی، اس کے باوجود وہ ہمیں بد نام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کے مطالبے کچھ ایسے ہیں کہ میرے شوہر پورا نہیں کر پارہے ہیں جیسے مجھے اپنے میکے والوں سے قطعی ملنے نہ دیا جائے اور پوری آمدنی انہی کو دیدی جائے۔ سارے بھا ئی بھی میرے شوہر سے ناراض ہیں ، ایک سال سے یہ لوگ نہیں ملے ہیں۔ میں اس مسئلہ کو لے کر بہت پریشان ہوں کہ اس عمر میں ماں باپ کی ناراضگی میرے شوہر کے لیے ٹھیک نہیں۔ ان سے جب بھی میں نے تعلقات بڑھایا وہ کچھ نہ کچھ ایذاء پہنچاتے ہیں، اور میرے اور میرے شوہر کے بیچ نااتفاقی پیدا ہوتی ہے۔ اس حال میں ہمیں کیاکرنا چاہئے؟ کہیں ہم کسی گناہ میں مبتلاتو نہیں ہورہے ہیں؟ براہ کرم، ہماری رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Dec 2, 2007

جواب # 2314

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1541/ ب= 1363/ ب


 


حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے تین دنوں سے زیادہ قطع تعلق کرے کہ جب باہم آمنے سامنے ہوں تو اپنا چہرہ پھیر لیں اور ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے جو پہلے سلام کرے (مفہوم) مشکوٰة:ص۴۲۷۔ اس حدیث کی رو سے آپ کے شوہر کے والدین اور بھائیوں کے لیے بغیر شرعی وجہ کے قطعِ تعلق جائز نہیں ہے، آپ حضرات ان کے ساتھ حسن سلوک کریں، تعلقات استوار کریں، جائز مطالبے پورے کریں۔ ان چیزوں کے باوجود اگر وہ لوگ قطع تعلق کریں تو وہ لوگ گنہ گار ہوں گے نیز ان حضرات کا آپ لوگوں کو ایذاء پہنچانا جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے بہتر مسلمان وہ شخص ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے اس کا دوسرا مسلمان بھائی محفوظ رہے (مفہوم) مشکوٰة: ص۱۲۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات