معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 162015

محترمی بڑی امید سے ایک مسئلہ رقم کر رہا ہوں، امید ہے قران و حدیث کی روشنی میں جلد از جلد مشورہ عطا کریں گے ۔ ہمارے بہت ہی قریبی رشتہ دار کے گھر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک نہایت صاف گو صاف دل سبھی کے دکھ سکھ میں حاضر رہنے والے سماج میں عزت دار محترم رہتے ہیں، لیکن وہ کوئی کام نہیں کرتے ہیں اور آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں، جہاں کبھی کبھارکسی جگہ کام ملتا بھی ہے تو چھ مہینے کے اندر کسی وجہ سے وہ کام چھوڑ دیتے ہیں گھر کا جو کچھ انتظام کرنا ہے ان کے لڑکے کرتے ہیں۔ ان کے دو لڑکے اور ایک لڑکی تینوں شادی شدہ اور الگ الگ شہروں میں بس چکے ہیں،یہ اپنے آبائی وطن میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ مولانا اس تمہید کے بعد اصل مسئلہ کہنا چاہوں گا کہ جس شخص کا میں ذکر کر رہا ہوں پچھلے پندرہ بیس سالوں سے کثرت سے شراب نوشی میں مبتلا ہیں۔ رات کے وقت بڑے اہتمام سے شراب نوشی ہوتی ہے حالانکہ یہ بات سماج میں معلوم نہیں ہے سواے چند رشتہ داروں کہ اس کے بعد وہ سب کچھ رات بھر ہوتا رہتا ہے جو رند کا خاصہ ہے ۔(گالی گلوچ مار توڑ چلانا پکارنا سب ) اور ساری طاقت ساری توانائی اپنی کمزور بیوی پر صرف ہوتی ہے ۔ تینوں اولادیں یہی سب دیکھ کر جوان ہوئے ہیں، بیوی کے بھائی شوہر کی بہنیں اور یہ تینوں اولادیں سب کے سب بیوی کو اس شخص سے الگ ہونے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ اور بیوی کچھ بھی ہو شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتی (کچھ عمر کا لحاظ کرکے اور کچھ سماج کے ڈر کی وجہ سے ) دوسرے اس شخص کی ایک خاص بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جیسے ہی رمضان شروع ہوتا ہے ان سے زیادہ پابند کوئی دوسرا خاندان میں ہو نہیں سکتا بے انتہا نمازوں کا اہتمام اور دو تین قران مجید پڑھ لئے جاتے ہیں رمضان کے ختم ہونے پر پھر سب شروع۔ ایک اور خاص بات کہ جب تک ان کے والدین زندہ تھے یہ بے انتہا ان کی خدمت کرتے تھے ۔لڑکے چونکہ روزگار کے سلسلہ میں بیرون شہر مقیم ہیں۔ والدہ فون پر اپنی تکالیف جب بھی بیان کرتی ہیں تو لڑکے ہوں یا لڑکی سبھی والد کو بہت کوستے رہتے ہیں۔ان کو برا بھلا کہتے ہیں، والدہ کبھی زیادہ اذیت کا شکار ہوتی ہیں تو تینوں اولادیں والد کو گالیاں بھی دیتے ہیں، کیونکہ اپنی آنکھوں سے انہوں نے بچپن سے یہ سب دیکھا ہے ، حالانکہ قریبی لوگ اولاد کو سمجھاتے بھی رہتے ہیں کہ والدین کے آپس کے معاملے میں والد کو گالی دینا مناسب نہیں، دونوں لڑکے والدہ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں اور اصرار کرتے رہتے ہیں، لیکن والد کو بالکل نہیں۔(لڑکے نیم سرکاری ملازمت کرتے ہیں صبح سے شام تک کی ان کی ڈیوٹی ہوتی ہے ، رات بھر گھر میں یہ سب دیکھ نہیں سکتے ) والدہ بھی بچوں کے پاس جانا چاہتی ہیں لیکن وہاں شوہر آئیں گے اور جھگڑے فساد کے ڈر سے ہمت نہیں جٹا پاتی ہے ،سب نے کئی مرتبہ مل کر انہیں جماعت میں بھیجنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکے کچھ لوگ ڈاکٹر کا مشورہ دیتے ہیں لیکن کوئی ان کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جا ہی نہیں سکتا۔ شراب چھڑانے کے دیسی طریقے بھی ان پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
اس سلسلہ میں ۱) میرا پہلا سوال مولانایہ ہے کہ کیا اس شخص کو کسی طرح سے شراب نوشی چھڑائی جاسکتی ہے ؟ یا اصلاح کی کوئی ممکن صورت نکل سکتی ہے؟ تو بتائیے ۔
۲) دوسرا سوال یہ کہ کیا بیوی کو اپنے بچوں کی بات مان لینی چاہیے اور شوہر سے علیحدگی کر لینی چاہئے ؟
۳) تیسرا سوال جناب یہ ہے کہ کیا لڑکوں کا یہ فیصلہ صحیح ہے کہ والدہ کواپنے ساتھ رکھیں گے والد کو نہیں؟
۴) چوتھا اور سب سے اہم سوال مولانا یہ کہ کیا اولاد کا اپنے باپ کو گالیاں دینا کتنا مناسب ہے ؟ چاہے وہ کتنا ہی ظلم اپنی بیوی پر کیوں نہ کرتا ہو۔
از راہ کرم جلد از جلد مشورہ سے نوازیں نوازش ہوگی۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 162015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1177-132/sd=9/1439



(۱) جی ہاں ! مذکورہ شخص اگر شراب کا عادی ہے، تو شراب نوشی چھڑوانے کے لیے حکمت کے ساتھ ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے ،شراب سارے فساد کی جڑ ہے ۔



(۲)پہلے مذکورہ شخص کو سمجھانے کی کوشش کی جائے ، اگر ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں اور اُس کے ساتھ رہنے میں بیوی کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑے ،ساتھ رہنے میں اللہ تعالی کے قائم کردہ حقوق بھی پامال ہوتے ہوں، تو ایسی صورت میں بیوی اپنا معاملہ مقامی یا قریبی شرعی پنچائت میں پیش کرے ،از خود فیصلہ نہ لے۔



(۳)اس کا جواب جزء نمبر ۲میں گذر چکا۔



(۴) گالیاں دینا جائز نہیں ہے؛ ہاں حسن تدبیر کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنے میں مضائقہ نہیں اور اللہ تعالی سے اصلاح حال کے لیے دعا بھی کی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات