معاشرت - اخلاق و آداب

India

سوال # 161247

حضرت، میرا سوال ہے کہ: ہم لوگ اپنے ہاتھوں پر تسبیح پڑھتے ہیں جیسے عصر کی نماز کے بعد ۳۳/ بار سبحان اللہ ۳۳/ بار الحمد للہ ۳۴/ بار اللہ اکبر․ تو کیا یہ تسبیحات ہمیں سیدھے ہاتھ پر پڑھنی چاہئے؟ ایک شخص نے بتایا کہ سیدھے ہاتھ پر پڑھنا سنت ہے اور اُلٹے ہاتھ پر نہیں پڑھنا چاہئے۔

Published on: May 10, 2018

جواب # 161247

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:950-903/M=8/1439



تسبیح سیدھے ہاتھ کی انگلیوں پر پڑھنی چاہیے یا الٹے ہاتھ کی انگلیوں پر اس بابت صحیح روایات سے کوئی پابندی منقول نہیں، اس لیے دونوں ہاتھ میں سے جس ہاتھ پر چاہیں پڑھ سکتے ہیں، البتہ بعض روایت میں ہے: عن عبد اللہ بن عمرو، قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعقد التسبیح ، قال ابن قدامة: بیمینہ (سنن أبي داوٴد) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھنا بہتر ہے نیز تیامن کی روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہراچھی چیز کو دائیں ہاتھ یا دائیں جانب سے کرنے کو پسند فرماتے تھے، اس سے بھی دائیں ہاتھ پر پڑھنا بہتر معلوم ہوتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات