معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 159138

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ:
حدیث پاک کا مفہوم ہے: ”ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار پرسی کرنا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شریک ہونا اور چھینک میں الحمد للہ کا جواب یرحمک اللہ سے دینا۔ اگر ایک آدمی نفل نماز پڑھ رہا ہو، تلاوتِ قرآن کر رہا ہو، دعا کررہا ہو، کھانا کھا رہا ہو، اس دوران اس کے کان میں الحمد للہ کی آواز سنائی دے تو ایسی صورت میں کیا چھینکنے والے کی الحمد للہ کا جواب دینا اس پر واجب ہے؟ اگر کسی وجہ سے نہیں دیا تو گناہ ہوگا؟

Published on: Apr 4, 2018

جواب # 159138

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:724-668/L=7/1439



اگر آدمی تلاوت، دعا، ذکریا کھانے میں مشغول ہو اس طور پر کہ لقمہ منھ کے اندر ہو تو اس پر چھینکنے والے کی الحمد للہ کا جواب دیناضروری نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات