معاشرت - اخلاق و آداب

Pakistan

سوال # 158362

جناب مفتی صاحب، میری والدہ کا انتقال تب ہوا جب میں صرف دو سال کا تھا۔ اس کے بعد میری کفالت میری نانی اور خالہ نے کی۔ نو سال کی عمر میں میں والد صاحب کے گھر آیا۔ میرے والد صاحب نے میری والدہ کی وفات کے نو مہینے بعد دوسرا نکاح کیا تھا۔ میں صرف چھ سال اپنے والد صاحب کے گھر رہا ہوں۔ اس کے بعد مجھے والد صاحب نے مدرسہ میں داخل کرایا اور میں ہاسٹل میں رہنے لگا۔ والد صاحب کے گھر آنے کے بعد بھی میری خالہ اور نانی نے میری ضروریات پوری کیں۔ اب قدرتی طور پر نہ میری سوتیلی ماں کے طرف رغبتِ محبت ہے اور اُن کی میری طرف۔ وہ ہر بار اپنے بچوں کی طرف داری ہی کرتی ہیں۔ میں اُن کی عزت کرتا ہوں لیکن بعض اوقات میں مجھے تکلیف ہوتی ہے اُن کی اس طرح کی بے رغبتی کی وجہ سے ۔ لیکن میری خالہ سے بہت محبت ہے اور وہ بھی مجھے اپنے بچوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں۔
برائے مہربانی میری رہنمائی کریں کہ آیا مجھ پر سوتیلی ماں کی بھی اُسی طرح خدمت کا حق ہے جس طرح اپنی ماں کا؟ اور آیا میری سوتیلی ماں کا مجھ پر زیادہ حق ہے یا میری خالہ کا؟ شکریہ

Published on: Feb 11, 2018

جواب # 158362

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 575-451/D=5/1439



سوتیلی ماں اور خالہ دونوں ہی ماں کے درجہ میں ہوتی ہیں لہٰذا ان میں سے ہرایک کا ادب واحترام تعظیم واجب ہوتی ہے یعنی ان کی شان میں گستاخی یا انھیں کسی طرح سے بھی ایذا پہنچانا جائز نہیں، اگر حیثیت ہے مالی خدمت کرکے انھیں خوش رکھنے کی کوشش کی جائے اور اطاعت فرمانبرداری کے ذریعہ ان کا حق ادا کیا جائے سوتیلی ماں اور خالہ میں سے چونکہ خالہ سے خونی رشتہ بھی ہے اس لیے ان کے ساتھ محبت بھی زیادہ ہوگی اور ان کی طرف سے شفقت ومحبت کا ظہور بھی۔ لیکن سوتیلی ماں سے تعلق باپ کی وجہ سے ہے اس لیے قابل احترام وہ بھی ہیں، اگرچہ بسا اوقات آدمی محسوس کرتا ہے کہ سوتیلی ماں سے وہ پیار نہیں مل رہا ہے جو اس کی اپنی حقیقی ماں سے ملتا یا خود سوتیلی ماں کے بچوں کو اس سے مل رہا ہے تو یہ طبعی اور کبھی غیر اختیاری بات ہوتی ہے لہٰذا آپ اس طرح کی منفی باتیں نہ سوچیں۔ اور ان کی طرف سے ناگوار باتوں پر صبر کریں اس سے بھی آدمی کا درجہ آخرت میں بڑھتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات