معاشرت - اخلاق و آداب

india

سوال # 157229

حضرت، میرے ایک عزیز سگے بہن بھائی ہیں کسی وجہ سے ان میں تقریباً پانچ سال پہلے اَن بن ہوگئی اور آج بھی قائم ہے، کچھ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بھائی جو چھوٹا ہے وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے تبلیغ کی بات کرتا ہے، اس سلسلے میں قرآنی آیت اور چند مستند احادیث بتائیں جو ا س کو سنا کر اور اللہ کا خوف دلاکر بھائی بہن کی نفرت کو دور کیا جاسکے۔ اور کوئی خاص طریقہ ہو تو وہ بھی بتائیں ثواب کا کام ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Published on: Jan 11, 2018

جواب # 157229

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:335-43T/D=4/1439



آیاتِ قرآنی اور احادیث نبوی میں رشتہ ناتا اور قرابت داری کوجوڑنے کی فضیلت اور تاکید وارد ہوئی ہے، نیز اس کے توڑنے سے منع کیا گیا ہے، سورہٴ نساء میں دو جگہ اس سلسلہ میں حکم مذکور ہے۔



(۱) وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَاءَ لُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ، ترجمہ: اور تم ڈرو اللہ تعالیٰ سے جن کے نام پر تم دوسروں سے اپنے حقوق طلب کرتے ہو اور ڈرو تم قرابت کے حقوق ضائع کرنے سے۔



(۲) وَاعْبُدُوا اللَّہَ وَلَا تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَبِذِی الْقُرْبَی الآیة․ ترجمہ: تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراوٴ اوروالدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں کے ساتھ۔



نیز ایک تیسری آیت ہے إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَی ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں انصاف اور حسن سلوک کا اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا۔



اس میں رشتہ داروں کی حسب استطاعت مالی اور جانی خدمت بھی داخل ہے اور ان سے ملاقات اور خبرگیری بھی۔



احادیث شریف میں بھی صلہ رحمی پر بڑا زور دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے من أحب أن یبسط لہ فی رزقہ وأن ینسأ لہ فی أثرہ فلیصل رحمہ․ یعنی جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی پیدا ہو اور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔



اس حدیث میں دو اہم فائدے معلوم ہوئے کہ آخرت کا ثواب تو ہے ہی دنیا میں بھی صلہ رحمی کا فائدہ یہ ہے کہ رزق کی تنگی دور ہوتی ہے اورعمر میں برکت ہوتی ہے۔



اس کے مقابلے میں قطع رحمی کے حق میں جو شدید ترین وعیدیں روایات حدیث میں مذکور ہیں اس کا اندازہ دو حدیثوں سے بخوبی ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے (۱) لا یدخل الجنة قاطع یعنی جو آدمی حقوق قرابت کی رعایت نہیں کرتا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔



(۲) لا تنزل الرحمة علی قوم فیہ قاطع رحم یعنی اس قوم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہیں اترے گی جس میں کوئی قطع رحمی کرنے والا موجود ہو (معارف القرآن: ج۳ص۲۸۰)



پس بھائی بہن کو چاہیے کہ آپسی ناراضگی ختم کرکے بات چیت کرنا شروع کردیں تاکہ اتنے ہی عمل سے انھیں صلہ رحمی کا ثواب ملتا رہے۔



حدیث میں عام مسلمان سے بات چیت سلام کلام بند کرنے کی مذمت وارد ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند کرے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات