معاشرت - اخلاق و آداب

india

سوال # 156819

میں گھر میں سب سے چھوٹا بیٹاہوں، میری شادی ہوچکی ہے اور میرا ایک بچہ بھی ہے ، الحمد للہ، ابھی حال ہی میں نے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے، کافی تلاش کرنے کے بعد مجھے اپنے شہر میں کوئی مناسب ملازمت نہیں مل سکی ، اس لیے میں اپنے ہوم ٹاؤن میں اپنی بیوی ، بیٹے اور ضعیف والدین کو چھوڑ کر باہر آگیا ہوں، اب میں چاہتاہوں کہ میرے والدین، میری بیوی اور بچے میرے ساتھ رہیں ، مگر والدین یہاں نہیں آنا چاہتے ہیں، میں سمجھ سکتاہوں کہ وہ ایسا کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہے، اس لیے میں نے ان کو یہاں آنے پر مجبور نہیں کررہاہوں اور دوسری طرف یہاں میرے لیے تنہا رہنا مشکل ہورہاہے۔ الحمد للہ، میں پابندی سے اپنے گھروالوں کو پیسہ بھیج رہاہوں اور مستقبل میں بھی پیسہ بھیجتا رہاہوں گا، ان شاء اللہ ، مگر مجھے واقعتا افسوس ہورہا ہے کہ والدین کو ان کی اس عمر میں تنہا چھوڑنا اچھا نہیں ہے، مگر دوسری طرف مجھے باپ کی حیثیت سے بھی ذمہ داری پوری کرنی ہے، میں بیرون ملک میں کام کررہاہوں، اس لیے بار بار ان کے پاس جانا بھی ممکن نہیں ہے، اس وقت ہمارے پاس خادم ہیں ، مگر وہ سبھی صرف دن کو کام کرتے ہیں، کوئی چوبیس گھنٹہ کام نہیں کرتاہے، میں سوچ رہاہوں کہ کسی کو مستقل طورپر والدہ کے پاس رکھ لوں، مجھے ان کے بارے میں بہت زیادہ فکر ہورہی ہے ، چونکہ ان کو شوگر ہے اوران کو دل کا مرض بھی ہے ۔ میں بہت پس و پیش میں ہوں ۔
براہ کرم، شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں ۔

Published on: Dec 24, 2017

جواب # 156819

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:419-363/H=4/1439



آپ کے حق میں مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر والدین بیوی بچے آپ کی جائے ملازمت پر نہیں رہ سکتے تو آپ جلد از جلد اپنے وطن میں کوئی بھی آمدنی کا مناسب ذریعہ اختیار کرکے اپنے وطن میں والدین اور بیوی کے ساتھ رہ کر حسن معاشرت گذر بسر کا نظام بنائیں، ماں باپ کی خدمت وزیارت سے اجر وثواب اور سعادت دارین کے ساتھ ساتھ دنیاوی برکات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ رہن سہن مستقل طور پر شرعاً مطلوب ومستحسن ہے اور مستقلاً علیحدہ رہنے میں مفاسد وخرابیوں کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات